ہوشیار، خبردار! 2019 کے الیکشن سے پہلے کچھ بھی ہو سکتا ہے

اب جبکہ عام انتخابات میں زیادہ دن نہیں رہ گئے ہیں تو ایک بار پھر رام مندر کا شنکھ بجا دیا گیا ہے اور آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے مندر تعمیر کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کل ایسے واقعات پیش آرہے ہیں یا ایسے بیانات دیئے جا رہے ہیں جن سے مستقبل کے بارے میں اندیشہ پیدا ہونا فطری ہے۔ ممکن ہے کہ چند ماہ کے اندر وہ اندیشے عملی شکل میں ظاہر ہو جائیں۔ ان واقعات اور بیانات کا تعلق کسی نہ کسی طرح 2019 کے عام انتخابات سے ہے۔ جو سب سے بڑے دو اندیشے سر ابھار رہے ہیں ان میں ایک ہے انتخابات سے عین قبل پاکستان کے ساتھ ایک محدود جنگ اور دوسرا ہے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر۔

قارئین کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ جب بھی انتخابات آتے ہیں خواہ وہ پارلیمانی ہوں یا کسی اسمبلی کے، بی جے پی کی جانب سے پاکستان کا نام لے کر اصل حریف پارٹی کانگریس اور سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کے حوالے سے ماحول کو فرقہ وارانہ بنیاد پر گرم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس بات کی ہر ممکن سعی کی جاتی ہے کہ عوام کو منافرت کے انجکشن لگا کر ان کے جذبات ابھارے جائیں اور ووٹ کی فصل کاٹی جائے۔

وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ پاکستان کے تعلق سے آج کل جارحانہ بیانات دینے لگے ہیں۔ ایسے بیانات جو باہمی کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے اضافہ کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اب انھوں نے بیانات سے آگے بڑھ کر ایک عملی قدم اٹھایا ہے۔ یعنی انھوں نے دسہرہ کے روز بیکانیر راجستھان میں ہند پاک سرحد پر ’’شستر پوجا‘‘ یعنی ہتھیاروں کی پوجا کی ہے۔ ہند پاک سرحد پر کسی بڑے وزیر کی جانب سے پہلی بار ایسا قدم اٹھایا گیا ہے۔ ایسے ماحول میں جبکہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حالات انتہائی کشیدہ ہیں، ان کا یہ قدم مناسب نہیں معلوم ہوتا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سرحد پر پاکستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ ہوتی ہے اور سیز فائر کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ پاکستانی افواج کی جانب سے ہندوستانی جوانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ہندوستانی وزرا کی مانند پاکستانی اہلکاروں کی جانب سے بھی دھمکی آمیز بیانات دیے جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تدبیر کے ساتھ ماحول کو ٹھنڈا کیا جائے گرم نہیں۔ لیکن موجودہ حکومت کے ذمہ داران کشیدگی کم کرنے کے بجائے اسے بڑھانے میں زیادہ یقین رکھتے ہیں۔

پاکستان کے روزنامہ جنگ کے ایک کالم نگار نصرت مرزا نے 20 اکتوبر کے شمارے میں غیر ملکی میڈیا کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’بھارت اپنے فوجیوں اور سامانِ حرب کو پاکستان کی سرحدوں کے قریب لے کر آرہا ہے اور گن شپ ہیلی کاپٹرز، جنگی ٹینک، رسد کے ہیلی کاپٹرز، درمیانہ اور بھاری اسلحہ کی بیٹریاں اور ملٹری راشن کے ڈپو لائن آف کنٹرول پر نصب کررہا ہے۔ ساری دنیا یہ سوال کررہی ہے کہ وہ ایسا کیوں کررہا ہے۔ کیا اس کا ایک محدود جنگ لڑنے کا ارادہ ہے‘‘۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یقیناً اس کا کوئی مقصد ہوگا۔ یہاں کے بعض دفاعی تجزیہ کار بھی اس اندیشے کا اظہار کرتے ہیں کہ الیکشن سے قبل پاکستان کے ساتھ جنگی جھڑپ ہو سکتی ہے۔

ہندوستان کا ہر شہری اور بالخصوص اقلیتیں ملک کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہتی ہیں۔ کوئی بھی محب وطن یہ برداشت نہیں کرے گا کہ ملک کی سالمیت اور اس کے اقتدار اعلیٰ پر کوئی آنچ آئے۔ لیکن حب الوطنی کی آڑ میں یا مسلح افواج کی مدح سرائی کی آڑ میں ایک قسم کا ہیجان برپا کر دیا جائے اس کو کوئی بھی امن پسند شخص پسند نہیں کرے گا۔ وہ یہ نہیں چاہے گا کہ فوج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے یا اس کا نام لے کر ووٹوں کی کھیتی کی جائے۔ حکومت کے حکم پر جس طرح سرجیکل اسٹرائیک کی دوسری سالگرہ منائی گئی وہ بھی کسی خاص مقصد کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

اب جبکہ عام انتخابات میں زیادہ دن نہیں رہ گئے ہیں تو ایک بار پھر رام مندر کا شنکھ بجا دیا گیا ہے۔ آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے مندر تعمیر کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔ جبکہ وشو ہندو پریشد نے دہلی میں ایک میٹنگ کرکے جلد از جلد رام مندر کی تعمیر کا راستہ ہموار کرنے کی مانگ کی ہے۔ ہندو تنظیموں سے وابستہ سادھو سنتوں کی جانب سے 6 دسمبر سے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر شروع کرنے کا اشتعال انگیز بیان بھی دیا جانے لگا ہے۔ ایسے میں جبکہ ایودھیا کی متنازعہ اراضی کے حق ملکیت کے مقدمہ پر سپریم کورٹ میں سماعت ہونے والی ہے اس قسم کے دھمکی آمیز بیانات سماجی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے سمِ قاتل سے کم نہیں۔

قابل ذکر ہے کہ مودی حکومت نے ساڑھے چار سال مکمل کر لیے ہیں۔ اس مدت کے دوران کبھی بھی اتنے شد و مد کے ساتھ رام مندر کا راگ الاپا نہیں گیا تھا جتنی شدت سے اب الاپا جا رہا ہے۔ کیا اس سے پہلے رام مندر کی تعمیر ضروری نہیں تھی۔ کیا اس سے پہلے مرکز میں بی جے پی کی حکومت نہیں تھی۔ کیا اس سے پہلے آستھا کا کوئی سوال نہیں تھا۔ آخر اب جا کر حکومت سے وابستہ افراد اور وشو ہندو پریشد، آر ایس ایس اور بی جے پی کے رہنماؤں کو رام مندر کی یاد اتنی شدت سے کیوں آنے لگی ہے۔

ظاہر ہے کہ الیکشن سر پر ہے اور کامیابی کا رتھ رام کے نام پر ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ اندیشہ ہے کہ جس طرح طلاق ثلاثہ پر آرڈیننس لایا گیا ہے اسی طرح رام مندر کی تعمیر کے لیے بھی آرڈیننس لایا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کوئی بھی فیصلہ سنائے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ رام مندر کے فریق پہلے ہی یہ کہتے آئے ہیں کہ اگر ہمارے خلاف فیصلہ ہوا تو ہم تسلیم نہیں کریں گے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس شور و شر کا مقصد عدالت پر دباؤ بنانا بھی ہے۔

ملک کے ماحول کو فرقہ وارانہ بنیاد پر گرمانے کے لیے دوسرے جذباتی پروگراموں کو بھی عملی شکل دی جا سکتی ہے۔ کہیں چھوٹے تو کہیں بڑے پیمانے پر فسادات بھی کرائے جا سکتے ہیں۔ ادھر بی جے پی صدر امت شاہ بار بار بنگلہ دیش کے نام نہاد دراندازوں کا مسئلہ اٹھاتے رہتے ہیں اور یہ بیان دے کر کہ ایک ایک گھس پیٹھئے کو چن چن کر نکال باہر کیا جائے گا، منافرت کی آگ میں ایندھن جھونکتے رہتے ہیں۔ آسام میں نام نہاد غیر ملکیوں کے ایشو پر عوام کے بعض طبقات کا ذہن پہلے ہی خراب کر دیا گیا ہے۔ اب یہ بیان دے کر کہ نیشنل سٹی زن رجسٹر کے پروگرام کو دوسری ریاستوں میں بھی اپنایا جائے گا، اقلیتوں میں خوف و ہراس کا ماحول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ عام انتخابات کا وقت جوں جوں قریب آتا جائے گا اس قسم کے بیانات بڑھتے جائیں گے اور دھمکی آمیز لہجے میں شدت آتی جائے گی۔ وہ دھمکی چاہے پاکستان کو ہو یا اقلیتوں کو یا پھر بی جے پی مخالف طبقات کو۔ نریندر مودی اور امت شاہ نے اس الیکشن میں کامیابی کو اپنی عزت نفس یا اپنے وقار سے جوڑ دیا ہے۔ لہٰذا وہ کسی بھی قیمت پر 2019 کا الیکشن جیت لینا چاہیں گے خواہ اس کے لیے ملک کو خاک اور خون کے دریا سے ہی کیوں نہ گزرنا پڑے۔

سب سے زیادہ مقبول