کیا بی جے پی بہار میں انتخاب نہیں لڑے گی!

این ڈی اے میں شامل بہارکی ریاستی پارٹیوں نے لوک سبھا سیٹوں پر جس طرح اپنا اپنا دعویٰ پیش کیا ہے اس کے مطابق بی جے پی کو صرف 4 سیٹیں ملتی ہوئی نظر آ رہی ہیں اور بی جے پی اس کے لیے کبھی راضی نہیں ہوگی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بہار میں دو حصوں میں منقسم نظر آ رہی این ڈی اے میں انتشار ختم کرنے کی کوششوں کے تحت آج شام پٹنہ میں میٹنگ ہو رہی ہے۔ اس میٹنگ میں جنتا دل یو سربراہ نتیش کمار، بی جے پی کے سشیل کمار مودی، ایل جے پی کے رام ولاس پاسوان اور آر ایل ایس پی کے اوپیندر کشواہا شامل ہوں گے۔ لیکن میٹنگ سے پہلے ہی جنتا دل یو جنرل سکریٹری کے سی تیاگی نے بیان دے دیا ہے کہ بہار ہی نہیں پورے ملک میں این ڈی اے کی حالت خراب ہے۔ پارٹی کے دوسرے جنرل سکریٹری شیام رجک نے یہ بیان دے کر ماحول مزید گرما دیا ہے کہ 25 سیٹوں سے کم پر تو کوئی بات ہی نہیں بنے گی۔ انھوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ بی جے پی لگاتار جنتا دل یو کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے اور اگر بی جے پی کو نتیش کمار کے نام کا فائدہ لینا ہے تو جنتا دل یو کی باتیں ماننی ہوں گی۔

اس میٹنگ سے قبل دیے گئے جنتا دل یو لیڈروں کے بیانات سے بات بننے سے زیادہ بگڑتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ کے سی تیاگی نے کہا کہ ’’مرکز میں جنتا دل یو کو نہ تو کابینہ میں جگہ ملی اور نہ ہی این ڈی اے کی پالیسی سازی میں اہمیت دی جاتی ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ بی جے پی کو نتیش کمار کے چہرے کا صحیح استعمال کرنا چاہیے کیونکہ اگر آئندہ انتخاب میں 2014 جیسی لہر نہیں بنی تو مرکز میں این ڈی اے کی واپسی مشکل ہوگی۔‘‘

شیام رجک نے اس سلسلے میں کہا کہ ’’بہار میں نتیش کمار اور جنتا دل یو اہم کردار نبھا رہے ہیں۔ ہم نے (2009 میں) 25 سیٹوں پر انتخاب لڑا تھا، ہمیں تو 25 سیٹیں چاہئیں، اس سے کم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر این ڈی اے کو نتیش کمار کی شبیہ کا فائدہ اٹھانا ہے تو انھیں جنتا دل یو کے ساتھ انصاف کرنا ہوگا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم این ڈی اے کے ساتھ نظریات اور پالیسیوں کی بنیاد پر جڑے ہیں۔ لیکن ہمارے ساتھ لگاتار ناانصافی ہو رہی ہے۔‘‘ شیام رجک نے مزید کہا کہ بی جےپی کو ہمیں عزت دینی ہوگی اور بہار کے ساتھ انصاف کرنا ہوگا۔

دوسری طرف رام ولاس پاسوان بھی کئی معاملوں میں جنتا دل یو کی آواز میں آواز ملا رہے ہیں۔ بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کی بات ہو یا دلت پر مظالم اور ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کو نرم کرنے کا ایشو۔ جمعرات کو ہی این ڈی اے کی میٹنگ سے پہلے پاسوان نے ٹوئٹ کر کے اخبار کے ان تراشوں کو شیئر کیا جس میں وہ نتیش کمار سے گلے ملتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ان خبروں اور تصویروں میں ان کے بیٹے چراغ پاسوان بھی ہیں۔ حالانکہ بی جے پی لیڈر اور بہار کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل مودی بھی تصویر میں نظر آ رہے ہیں لیکن جو گرمجوشی پاسوان اور نتیش میں نظر آ رہی ہے ویسی گرمجوشی مودی کے ساتھ نہیں ہے۔

پاسوان کی پارٹی ایل جے پی کے لیڈر پشوپتی پارس نے بھی واضح کر دیا ہے کہ ’’ہم اپنی جیتی ہوئی 6 سیٹوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ بی جے پی، این ڈی اے کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اتحاد کے سبھی ساتھیوں کو مطمئن کرے۔‘‘ اس سے قبل جنتا دل یو ممبر پارلیمنٹ پون ورما بھی کہہ چکے ہیں کہ لوک سبھا ہو یا راجیہ سبھا انتخاب بہار میں نتیش کمار ہی اتحاد کا چہرہ ہوں گے۔ انھوں نے این ڈی اے-1 کے فارمولے کی بات بھی کہی ہے۔ ایسی صورت میں بی جے پی کے بہار میں صرف 4 سیٹیں بچتی ہیں۔ بہار سے لوک سبھا کی کل 40 سیٹیں ہیں۔ ان میں سے اگر جنتا دل یو 25، ایل جے پی 7 اور آر ایل ایس پی 4 سیٹیں لے لیتی ہیں تو بی جے پی کے حصے میں صرف 4 سیٹیں آئیں گی۔ موجودہ حالات کو دیکھیں تو فی الحال بہار سے بی جے پی کے 23 ممبران پارلیمنٹ ہیں، ایل جے پی کے 7، آر ایل ایس پی کے 3 اور 2 جنتا دل یو کے ممبران پارلیمنٹ ہیں۔

اس میں کوئی اندیشہ نہیں کہ بہار میں این ڈی اے کی پہلی پاری میں جنتا دل یو بڑے بھائی کے کردار میں رہی ہے۔ 2009 میں جنتا دل یو اور بی جے پی نے ساتھ مل کر لوک سبھا انتخاب لڑا تھا، اس وقت بہار کی کل 40 سیٹوں میں سے جنتا دل یو نے 25 اور بی جے پی نے 15 سیٹوں پر انتخاب لڑا تھا۔ لیکن 2014 میں حالات بدل گئے تھے۔ جنتا دل یو، این ڈی اے سے الگ ہو کر انتخابی میدان اتری تھی اور صرف دو سیٹیں ہی جیت پائی تھی۔ جب کہ بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے نے 31 سیٹوں پر قبضہ کیا۔

سیاسی تجزیہ نگار اور سینئر صحافی پرمود دَت کا اس پورے معاملے میں کہنا ہے کہ جنتا دل یو دراصل این ڈی اے پر دباؤ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ جنتا دل یو 2009 کے مقابلے کمزور ہوئی ہے اور ایسے میں یہ دباؤ فطری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’جنتا دل یو پہلے کی طرح مضبوط نہیں ہے اور بی جے پی پہلے کی طرح کمزور نہیں ہے۔موجودہ حالات میں جنتا دل یو کو بھی بی جے پی کی ضرورت ہے اور بی جے پی کو جنتا دل یو کی۔‘‘

دراصل حال کے جوکی ہاٹ ضمنی انتخاب میں جنتا دل یو کی شکست کے بعد سے این ڈی اے میں بغاوتی آواز تیز ہوئی ہے۔ جنتا دل یو نے ڈائریکٹ ’پریشر پالیٹکس‘ اپنائی ہے اور اعلان کر دیا ہے کہ بہار میں تو جنتا دل یو ہی ’بڑا بھائی‘ ہے، انتخاب لوک سبھا کا ہو یا اسمبلی کا۔ آر ایل ایس پی کے اوپیندر کشواہا بھی کہہ چکے ہیں کہ این ڈی اے میں تایل میل کی کمی ہے۔ پہلے ہی سیٹوں کی تقسیم ہو تاکہ سبھی ساتھی پارٹیاں مکمل تیاری کر سکیں۔

next