بی جے پی کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکنا ’عآپ‘ کی اولین ترجیح: سنجے سنگھ

سنجے سنگھ نے کہا کہ اپوزیشن کے طور پر اتحاد کے لئے ایک بہت بڑی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ اس ملک کے اندر صحت مند سیاسی متبادل دے کر اچھی حکومت چلا کر دکھائے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سلطان پور: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے ترجمان اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکنا ہی ان کی پارٹی کی اولین ترجیح ہے۔

سلطان پور میں ایک نجی پروگرام کے دوران سنجے سنگھ نے اتوار کو یہاں صحافیوں سے کہا کہ فی الحال ہماری ترجیحات میں بی جے پی کو شکست دے کر اسے اقتدار سے دور رکھنا ہے۔ اپوزیشن کے طور پر اتحاد کے لئے ایک بہت بڑی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ اس ملک کے اندر صحت مند سیاسی متبادل دے کر اور اچھی حکومت چلا کر دکھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم بی جے پی کی تنقید کر رہے ہیں تواس بار مرکز میں جو بھی حکومت بنے گی، اسے عوام کے اعتماد پر کھرا اترنا ہوگا۔ اگر ہم کھرے نہیں اترے تو عوام کے لئے بڑی مایوسی کا سبب بنے گا۔

عام آدمی پارٹی کے اتحاد کے سوال پر سنجے سنگھ نے کہا کہ ابھی یہ طے نہیں ہوا ہے کہ ان کا کس پارٹی کے ساتھ اتحاد ہوگا، یہ اعلی قیادت فیصلہ کرے گی۔ فی الحال ہماری ترجیح بی جے پی کو ہرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے بی جے پی کے مقابلے اتحاد الگ الگ لڑنا چاہتے ہیں اس سے مقابلہ مضبوطی سے ممکن نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مودی کے دور اقتدار میں عوام کو مایوسی ملی ہے اور اس سے راحت حاصل کرنے کے لئے عوام دوسری پارٹیوں کو بڑی امید کے ساتھ دیکھ ر ہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اتحاد میں تال میل کا فقدان رہا تو پانچ سال تک نئی حکومت کس طرح چلے گی اور ہم کام نہیں کر پائے تو یہ ملک اور جمہوریت کے لئے اچھا نہیں ہو گا۔ آپ لیڈر سنجے سنگھ نے کہا کہ اتر پردیش میں لا اینڈ آرڈر ختم ہوچکا ہے یہاں جنگل راج ہے. انہوں نے بلند شہر کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں سيانا کوتوالی کے انچارج سبودھ کمار سنگھ نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے اپنی شہادت پیش کی۔ یوگی حکومت نے یوم جمہوریہ کے موقع پر اسے بھلا دیا اور شهیدوں کا سا احترام بھی نہیں ملا۔

پرینکا گاندھی کو کانگریس جنرل سکریٹری بنائے جانے کے سوال پر سنجے سنگھ نے کہا کہ یقینی طور پر کانگریس مضبوط ہوگی اور الیکشن میں اسے مدد ملے گی۔ امیٹھی کا ہونے کی وجہ سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ پرینکا کا محدود تشہیر کرنے کا فائدہ امیٹھی اور رائے بریلی میں ملا ہے اور اب مشرقی اتر پردیش کا انچارج بنانے سے کانگریس پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔