قومی

اب انتخابی تقریر بھی ٹیلی پرامپٹر سے پڑھتے ہیں مودی، یادداشت پر نہیں رہ گیا بھروسہ!

پی ایم مودی دلائل اور اعداد و شمار کو لے کر مضحکہ سطح تک غلطیاں کرتے رہے ہیں۔ انتخابات کے دنوں میں اس تعلق سے احتیاط بہت ضروری ہے اور اس لیے انھوں نے ٹیلی پرامپٹر کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اس سے شاید خود وزیر اعظم نریندر مودی بھی انکار نہیں کرنا چاہیں گے کہ موقع کوئی بھی ہو، وہ بولتے بہت ہیں۔ اسی بنیاد پر بی جے پی کے لوگ انھیں ماہر مقرر مانتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مودی بغیر نوٹس کے ہی اپنی تقریر دیتے ہیں۔ لیکن ان دنوں وہ ٹی وی انٹرویوز سے لے کر ہر جلسہ میں ٹیلی پرامپٹر کا استعمال کرنے لگے ہیں۔ ان کی کوئی بھی تقریر اب بغیر ٹیلی پرامپٹر کے نہیں ہوتی۔

بی جے پی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے کے دو اسباب ہیں، ایک تو یہ کہ نوٹس سامنے رکھ کر بولنا اب پرانا اسٹائل ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ مودی ٹیکنالوجی پریمی ہیں اور اسی لیے وہ ٹیلی پرامپٹر کا استعمال کر رہے ہیں۔ ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ انتخابات کے اس وقت میں روزانہ ہی مودی کے کئی پروگرام ہوتے ہیں اس لیے فطری ہے کہ وہ اس طرح کی سہولت کا استعمال کریں۔

آخر، مودی دلائل اور اعداد و شمار کو لے کر مضحکہ خیز سطح تک کی غلطیاں کرتے رہے ہیں۔ انتخابات کے دنوں میں اسے لے کر احتیاط ضروری ہے اس لیے مودی نے ٹیلی پرامپٹر کا استعمال کرنے کا خود ہی فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں پوڈیم سے 4 فیٹ کی دوری پر دو پتلی ڈنڈیوں پر شفاف اسکرین پر ان کے مشیر تقریر کے اہم نکات کو ابھارتے رہتے ہیں جنھیں پڑھ کر وہ اپنی تقریر کو پہلے سے الگ بنا دیتے ہیں۔ مودی پہلے اس تکنیک کا استعمال صرف انگریزی میں تقریر دینے کے لیے کرتے تھے۔ انھیں انگریزی بولنے میں اتنی ہی مہارت حاصل ہے جتنی دیوگوڑا یا اچیوتانندن جیسے جنوب ہندوستانی لیڈروں کو ہندی بولنے میں۔ اسی لیے غیر ملکی دوروں کے وقت ہی نہیں، سائنسدانوں یا ماہرین تعلیم کے پروگراموں کے دوران بھی انگریزی میں بولنے کے لیے مودی ٹیلی پرامپٹر کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ چونکہ یہ تقریباً شفاف ہوتا ہے اور نظروں اور کیمروں کی گرفت میں نہیں آتا اس لیے لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ از خود پرجوش تقریر کر رہے ہیں۔

مودی جس عہدہ پر ہیں، ان سے غلطیوں سے بچنے کے لیے ٹیلی پرامپٹر کے استعمال پر تھوڑی حیرانی تو ہو سکتی ہے لیکن کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا۔ لیکن بی جے پی کے ہی کچھ لیڈر یہ بھی کہتے ہیں کہ ممکن ہے مودی کو اس کا استعمال کرنے کی اس لیے ضرورت محسوس ہونے لگی ہے کہ بڑھتی عمر کی وجہ سے انھیں باتوں میں تار جوڑنے میں دقت ہونے لگی ہے۔ مودی جتنا مصروف رہتے ہیں اس میں اس عمر میں ایسا ہونا کوئی حیرانی بھی نہیں ہے۔ یہ بات مودی کے قریبیوں سے لے کر سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں بھی کہی جاتی ہے کہ مودی ضرورت پڑنے پر 16 گھنٹے تک ایکٹیو رہتے ہیں، اور یہی ان کی مضبوطی بھی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی 68 سال پار کر چکے ہیں۔ ممکن ہے ان میں بھی عمر سے متعلق تبدیلی شروع ہو رہی ہوں اور یہ کوئی بیماری نہیں ہے۔ کبھی آکسفورڈ کہے جانے والے الٰہ آباد یونیورسٹی میں جنیٹک سائنس کی پروفیسر رہیں ڈاکٹر دیپکا کول کہتی ہیں کہ آدمی میں محسوس کرنے والے سیل چھوٹے چھوٹے خلیات سے بنے ہیں۔ سبھی حسی اعضا سے دماغ کو جوڑنے کا کام یہ حسی خلیات ہی کرتی ہیں۔ دوسری خلیات کی طرح ان کی بھی موت ہوتی ہے اور نئی خلیات بنتی رہتی ہیں۔ 55 سے 60 سال کی عمر کے بعد حسی خلیات کا خاتمہ تیزی سے ہوتا ہے لیکن اس کے بننے کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ اسی سے یادداشت اور دیگر چیزیں بھی کمزور پڑنے لگتی ہیں۔ یہ معمول کا عمل ہے اور یہ کوئی بیماری نہیں ہے۔

برطانیہ کے مشہور و معروف ڈاکٹر اشوک جینر کا بھی کہنا ہے کہ لگاتار تناؤ کا کسی بھی شخص کی صحت، خاص طور سے ذہنی صحت پر بہت ہی برا اثر پڑتا ہے۔ اس میں سب سے پہلے یاد رکھنے کی طاقت پر اثر پڑتا ہے۔ مغربی تہذیب کے سبب زیادہ تر یوروپی ممالک میں لائف اسٹائل سے متعلق بیماریاں بہت عام ہیں۔ وہاں کے سیاسی لیڈر بھی اپنی صحت سے متعلق جانکاریاں عوام کے ساتھ شیئر کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتے۔ ہندوستانی نژاد ڈاکٹر جینر کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اکثر اس طرح کی صحت سے متعلق پریشانیاں لے کر لوگ آتے ہیں۔ ان کی صلاح تناؤ کم کرنا، آرام کرنا اور پابندی سے ورزش کرنا ہے۔ دواؤں کا فائدہ ان بیماریوں میں بہت محدود ہوتا ہے۔