سی بی آئی کے وکیل اور شوبھندو ادھیکاری کی مبینہ ملاقات پر ترنمول کا سوال

ناردا اسٹنگ معاملے میں ترنمول کانگریس کے لیڈروں کی گرفتاری اور شوبھندو ادھیکاری کو گرفتار نہیں کئے جانے پر پہلے سے ہی اعتراض کیا جارہا تھا کہ آخر ادھیکاری کے ساتھ نرمی کیوں برتی جارہی ہے۔

شوبھیندو ادھیکاری کی فائل تصویرآئی اے این ایس
شوبھیندو ادھیکاری کی فائل تصویرآئی اے این ایس
user

یو این آئی

ناردا اسٹنگ آپریشن معاملےمیں سی بی آئی کے وکیل و سالسٹر جنرل تشار مہتا کے ساتھ بی جے پی لیڈر شوبھندو ادھیکاری کی مبینہ ملاقات پر اعتراض کرتے ہوئے ترنمول کانگریس نے کہا کہ اس پورے معاملے میں سی بی آئی کا جانبدارانہ کردار سامنے آچکا ہے۔

ترنمول کانگریس کے ریاستی ترجمان کنال گھوش نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سی بی آئی کے وکیل ایک ملزم سے ملاقات کس طرح کرسکتے ہیں ۔کنال گھوش نے اپنے ٹوئیٹ میں گرچہ واضح طور پر شوبھندو ادھیکاری کا نام نہیں لیا ہے تاہم انہوں نے ادھیکاری کی طرف ہی اشارہ کیا ہے۔


ناردا اسٹنگ معاملے میں ترنمول کانگریس کے لیڈروں کی گرفتاری اور شوبھندو ادھیکاری کو گرفتار نہیں کئے جانے پر پہلے سے ہی اعتراض کیا جارہا تھا کہ آخر ادھیکاری کے ساتھ نرمی کیوں برتی جارہی ہے۔
گنال گھوش نے یہ بھی الزام عاید کیا ہے کہ ادھیکاری نے اپنے انتخابی حلف نامے میں ناردا کیس کا ذکر نہیں کیا ہے ۔خیال رہے کہ انتخابی حلف نامے میں ان تمام معاملات کا ذکر کرنا لازمی ہوتا ہے جو ان کے خلاف چل رہے ہیں۔ترنمول کانگریس کے دعویٰ کے مطابق ادھیکاری نے اپنے حلف نامہ ناردا اسٹنگ آپریشن معاملے میں چل رہے کیس کا ذکر نہیں ہے۔

دوسری جانب سی بی آئی نے ادھیکاری کی گرفتاری نہیں کئے جانے پر کہا ہے کہ چوں کہ یہ کیس جس وقت سامنے آیا تھا اس وقت وہ لوک سبھا کے ممبر تھے اور اب تک لوک سبھا اسپیکر نے ان کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دی ہے۔اسی وجہ سے ترنمو ل کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ کے خلاف بھی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔مگر اس مرتبہ ترنمول کانگریس نے تشار مہتا کے ساتھ ملاقات کا ایشو اٹھاکر اس پورے معاملے کو دوسرا رخ دینے کی کوشش کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔