قومی

وجیہ بینک اور دینا بینک بنے تاریخ اب صرف بینک آف بڑودہ

مرکزی کابینہ نے تین بڑے پبلک سیکٹر بینکوں کے انضمام کو منضوری دے دی ہے اور اب یکم اپریل سے وجیہ اور دینا بینک بینک آف بڑودہ میں ضم ہو جانئیں گے ۔

یو این آئی 
یو این آئی 

قومی آوازبیورو

حکومت نے پبلک سیکٹر کے تین بینکوں بینک آف بڑودہ، وجیہ بینک اور دینا بینک کے انضمام کو منظوری دے دی ہے جویکم اپریل 2019 سے نافذ العمل ہوگا اور اس انضمام سے ملک دوسرا سب سے بڑا بینک بن جائے گا۔ اس سے قبل ایسا اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں بھی ہو چکا ہے ۔دنیا بھر میں اس بات پر غور ہو رہا ہے کہ اقتصادی اداروں یا کمپنیوں کے انضمام کا چلن اس لئے ٹھیک نہیں ہے کیونکہ اس سے مقابلہ میں کمی آتی ہے جس کا اثر اقتصادی ترقی پر پڑتا ہے۔ ایسے وقت میں انضمام کی منظوری کے فیصلہ پر سوال ضرور کھڑے ہوں گے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کل کابینہ کی ہوئی میٹنگ میں اس ضمن کی تجویز کو منظوری دی گئی۔ پہلے اس انضمام کو اصولی منظوری دی گئی تھی۔ لیکن اب حکومت نے رسمی طور پر منظوری دے دی ہے ۔ اس کے تحت وجیہ بینک اور دینا بینک کا بینک آف بڑودہ میں انضمام ہوگا اور اس کے بعد انضمام والا بینک ملک کا دوسرا سب سے بڑا سرکاری بینک ہوجائے گا۔
قانون و انصاف کے وزیر روی شنکر پرساد نے کابینہ کی میٹنگ میں لئے گئے فیصلوں کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ اس انضمام سے عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی بینک بنے گا۔ اس سے بینک کا نیٹ ورک بڑھنے کے ساتھ ہی کم لاگت پر جمع کے علاوہ تینوں بینکوں کے معاونین کے درمیان بہتر تال میل سے پیداواریت بڑھے گی اور کسٹمرس تک رسائی میں اضافہ ہوگا۔ ملک میں پہلی مرتبہ پبلک سیکٹر کے تین بینکوں کا انضمام ہوگا۔ جس سے ملک کا دوسرا سب سے بڑا سرکاری بینک بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس انضمام سے بینک کا کسٹمر بیس بڑھے گا۔ اس انضمام میں وجیہ بینک اور دینا بینک کے تمام کاروبار ، اثاثے ، حقوق ، ٹائٹل ، دعوے ، لائسنس ، انڈورسمنٹ اور دیگر اجازت نامے نیز تمام جائیداد ، تمام ادھار، واجب الادائیگی بینک آف بڑودہ کو منتقل کیا جائے گا۔

(یو این آئی کے انپٹ کے ساتھ )