ہندوستان پر 100 فیصد ٹیرف کا خطرہ، کھڑگے پی ایم مودی پر برہم، کہا ’امریکہ کے سامنے حکومت گھٹنے ٹیک رہی ہے‘

ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی آپ کے پیارے دوست ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘ کا حکم چلتا ہے، آپ گھٹنے ٹیک دیتے ہیں اور نتیجہ 140 کروڑ ہندوستانیوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / ویڈیو گریب</p></div>
i

امریکی پارلیمنٹ میں ایک بل پر بدھ کے روز فائنل ووٹنگ ہونی ہے، جس کے پاس ہونے کے بعد قانون بنانے کے لیے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بھیجا جائے گا۔ یہ بل صدر کے پاس روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ہندوستان سمیت کئی ممالک پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ہندوستان پر کافی زیادہ ٹیرف کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ انہی خطرات کے مد نظر کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت پر سخت تنقید کی ہے، اور کہا ہے کہ مودی حکومت کی خارجہ اور تجارتی پالیسیاں بری طرح ناکام رہی ہیں۔

کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر وزیر اعظم مودی پر سخت تنقید کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’وزیر اعظم مودی آپ کے پیارے دوست ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘ کا حکم چلتا ہے، آپ گھٹنے ٹیک دیتے ہیں اور نتیجہ 140 کروڑ ہندوستانیوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اب ہندوستانی سامانوں پر 100 فیصد تک امریکی ٹیرف کا خطرہ منڈلا رہا ہے، آپ کی حکومت کی خارجہ اور تجارتی پالیسیاں بری طرح ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فارماسیوٹیکل، ٹیکسٹائل، انجینئرنگ کا سامان، کیمیکل، آٹو پارٹس، جواہرات اور زیورات، الیکٹرانکس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو اس بھاری بھرکم ٹیرف سے زبردست جھٹکا لگ سکتا ہے۔


ملکارجن کھڑگے نے ہندوستانی کاروباریوں کو لگ رہے جھٹکوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے 25 فیصد ٹیرف لگا، پھر 50 فیصد اور اب 100 فیصد ٹیرف کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران مودی حکومت ایک ایسے ٹریڈ فریم ورک پر متفق ہو گئی، جو امریکی سامان کی ہندوستان کی زرعی مصنوعات تک پہنچ بڑھاتا ہے اور ہمارے کسانوں کے حق کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ فریم ورک ہمیں اگلے 5 برسوں میں 500 بلین ڈالر کی امریکی اشیا خریدنے پر مجبور کرتا ہے۔ آن لائن ادائیگی ’یو پی آئی‘ پر فیس کے نفاذ پر تنقید کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ منگل کے روز یو پی آئی پر ایم ڈی آر کے معاملے میں گھٹنے ٹیکنا آپ کی حکومت کی کمزوری کی مثال ہے۔ ٹیرف اور تجارت سے لے کر ایچ1 بی1 امیگریشن، ویزا اور ڈیجیٹل ادائیگی تک، ہر معاملے میں واشنگٹن کا دباؤ بڑھتا ہی جا رہا ہے اور آپ یعنی ’ہاؤڈی مودی جی‘ مسلسل گھٹنے ٹیکتے جا رہے ہیں۔ یوپی آئی ادائیگی فیس معاملے پر کانگریس مرکزی حکومت کی خوب تنقید کر رہی ہے اور اس فیس کو مودی ٹیکس قرار دیا اور الزام لگایا کہ کمپرومائزڈ وزیر اعظم نریندر مودی نے تجارتی معاہدے کی طرح اس معاملے میں بھی امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

اس معاملہ میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی گزشتہ روز سخت رد عمل ظاہر کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ 2 ہزار روپے سے زیادہ کی کاروباری یو پی آئی لین دین کی تعداد تقریباً 5 فیصد ہے، لیکن یو پی آئی کے کل لین دین کی مالیت میں ان کی حصہ داری تقریباً 65 فیصد ہے اور اس کا بوجھ بالآخر قیمتوں میں اضافے کے ذریعے صارفین کی جیب پر ہی پڑے گا۔ اس سے قبل حکومت نے منگل کے روز ڈیجیٹل ادائیگی کے لیے نیا سسٹم جاری کیا۔ اس کے تحت 2000 روپے سے زیادہ کی یو پی آئی ادائیگی وصول کرنے پر تاجروں سے 0.4 فیصد ایم ڈی آر فیس وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس میں 75000 روپے یا اس سے زیادہ کی ادائیگی پر زیادہ سے زیادہ 300 روپے فیس دینا ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی جنوری 2020 سے نافذ زیرو ایم ڈی آر نظام ختم ہوگیا اور نئی تبدیلیاں اگلے ماہ 15 اکتوبر سے نافذ ہوں گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔