’یہ سراسر ڈکیتی ہے، پورے ملک میں نافذ ہو ایس او پی‘، ڈیجیٹل دھوکہ دہی پر سپریم کورٹ کا سخت ردعمل
ڈیجیٹل جرائم سے نجات پانے کے لیےعدالت نے کہا کہ بین محکماتی ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل کے لیے 4 ہفتے کے اندر ایک ڈرافٹ میمورنڈم آف انڈراسٹینڈنگ (ایم او یو) تیار کیا جائے۔

ملک میں تیزی سے بڑھتے ڈیجیٹل فراڈ کے معاملوں پر سپریم کورٹ نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے اسے ڈکیت یا لوٹ قرار دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اب تک 54 ہزار کروڑ سے زیادہ کی رقم سائبر فراڈ کے ذریعہ نکالی جا چکی ہے، جو انتہائی سنگین صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے ذریعہ تیار کیے گئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیزر (ایس او پی) کو پورے ملک میں باضابطہ طور پر نافذ کیا جائے، تاکہ ڈیجیٹل فراڈ پر موثر کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ڈیجیٹل دھوکہ دہی کے معاملوں میں بینکوں کی لاپرواہی یا افسران کی ملی بھگت کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے آر بی آئی اور بینکوں سے کہا کہ وہ ایسے معاملوں میں بروقت اور سخت کارروائی کو یقینی بنائیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے بتایا کہ آر بی آئی نے پہلے ہی ایک ایس او پی تیار کیا ہے، جس کے تحت سائبر فراڈ کا شبہ ہونے پر عارضی طور پر ڈیبٹ کارڈ کو ہولڈ پر رکھنے جیسی فوری کارروائی کا التزام ہے۔ اس کا مقصد دھوکہ دہی سے ہونے والے نقصان کو فوری طور پر روکنا ہے۔
ڈیجیٹل جرائم سے نجات پانے کے لیے سپریم کورٹ نے ایک اور اہم ہدایت دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ بین محکماتی ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل کے لیے 4 ہفتہ کے اندر ایک ڈرافٹ میمورنڈم آف انڈراسٹینڈنگ (ایم او یو) تیار کیا جائے۔ عدالت نے واضح لفظوں میں کہا کہ ہم مرکزی حکومت کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ آر بی آئی کے ایس او پی کو باضابطہ طور پر اپنائے اور اسے پورے ہندوستان میں نافذ کرے، تاکہ ڈیجیٹل دھوکہ دہی سے نمٹنے میں ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل ہو سکے۔ ساتھ ہی عدالت نے سی بی آئی کو ہدایت دی ہے کہ وہ پورے ملک میں سامنے آئے ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ معاملوں کی شناخت کرے اور ان سے وابستہ حقائق کی تفصیلی تحقیقات کی جائے۔
سپریم کورٹ نے گجرات اور دہلی حکومتوں سے کہا ہے کہ جن معاملوں کی شناخت کی جائے، ان میں تحقیقات کے لیے ضروری منظوری بغیر کسی تاخیر کے فراہم کی جائے، تاکہ تفتیشی عمل میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ آر بی آئی، محکمہ ٹیلی مواصلات اور دیگر متعلقہ ایجنسیاں آپس میں مل کر ایک مشترکہ میٹنگ منعقد کریں۔ اس میٹنگ کا مقصد ڈیجیٹل اریسٹ کے شکار لوگوں کو معاوضہ دینے کے لیے ایک واضح اور مؤثر ڈھانچہ تیار کرنا ہوگا۔
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل اریسٹ جیسے معاملوں میں متاثرہ کو معاوضہ دیتے وقت تکنیکی پیچیدگیوں میں الجھنے کے بجائے ایک عملی اور ہمدردانہ رویہ اپنایا جانا چاہیے۔ عدالت کے مطابق ایسے جرائم میں عام شہری ذہنی اور مالی طور پر بہت زیادہ نقصان اٹھاتا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔