’یہ ناجائز انٹری ہے‘، بی جے پی رکن پارلیمنٹ راگھو چڈھا کے دہلی کا ووٹر بننے پر عآپ کا سخت رد عمل

عام آدمی پارٹی نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا ہے کہ 7 ستمبر کو راگھو چڈھا کا نام کس اصول اور کس عمل کے تحت دہلی کی ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا؟

<div class="paragraphs"><p>راگھو چڈھا / آئی اے این ایس</p></div>
i

پنجاب سے بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا کا نام دہلی کی ووٹر لسٹ میں شامل ہو گیا ہے۔ راجدھانی میں جاری خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے تحت ووٹر لسٹ کو اپڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ اسی عمل کے دوران راگھو چڈھا کا نام دہلی کے راجندر نگر اسمبلی حلقہ کی ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ خبر پھیلنے کے بعد عام آدمی پارٹی  (عآپ) نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر ہی سوال کھڑا کر دیا ہے۔ پارٹی نے الیکشن کمیشن سے اس معاملے میں وضاحت بھی طلب کی ہے۔

8 ستمبر کو عآپ لیڈران نے ایک پریس کانفرنس کر کے یہ معاملہ اٹھایا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ 3 ستمبر کو راگھو چڈھا نے عآپ پر پنجاب سے ان کا ووٹ کٹوانے کا الزام عائد کیا اور 7 ستمبر کو الیکشن کمیشن نے دہلی کی ووٹر لسٹ میں ان کا نام شامل کر دیا۔ پارٹی نے سوال کیا کہ 7 ستمبر کو راگھو چڈھا کا نام کس اصول اور کس عمل کے تحت دہلی کی ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا؟


عآپ لیڈران نے الزام عائد کیا کہ راگھو چڈھا کا نام راجندر نگر اسمبلی حلقہ کی ووٹر لسٹ میں طے شدہ طریقۂ کار پر عمل کیے بغیر شامل کیا گیا۔ دہلی عآپ کے صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ متعلقہ پولنگ سنٹر کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں 31 اگست کو مجموعی طور پر 746 ووٹرس تھے، لیکن بعد میں راگھو چڈھا کا نام 747ویں ووٹر کے طور پر دکھائی دیا۔ سوربھ نے سوال اٹھایا کہ جب ڈرافٹ لسٹ میں 746 ووٹرس درج تھے تو اضافی نام کیسے شامل ہو گیا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے اس پورے عمل کی معلومات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔ بھاردواج نے کہا کہ علاقے کی ووٹر لسٹ میں سنیل چڈھا کے بیٹے راگھو چڈھا کا نام درج ہے، جن کی عمر 37 سال ہے۔

دوسری طرف الیکٹورل حکام نے عآپ کے ان الزامات پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کی ووٹر لسٹ میں اپڈیٹ کے عمل کے ذریعہ راگھو چڈھا کا نام شامل کیا گیا ہے۔ ان کا نام پنجاب کی ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے، جہاں سے ان کی سابق پارٹی عآپ نے انہیں راجیہ سبھا بھیجا تھا۔ دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر دفتر کے ایک افسر نے بتایا کہ منگل تک دہلی کی 70 اسمبلی نشستوں میں ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے مجموعی طور پر 700 فارم-6 کو انتخابی رجسٹریشن افسران (ای آر او) نے منظوری دی تھی۔ راگھو چڈھا کا نام بھی انہی منظور شدہ درخواستوں میں شامل ہے۔


افسر کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر تیار کرنے کے لیے دہلی کی ووٹر لسٹ کو 16 جون کو فریز کر دیا گیا تھا اور یہ 31 اگست تک فریز حالت میں رہی۔ اس کے بعد 31 اگست کو ڈرافٹ ووٹر لسٹ شائع کی گئی۔ اس مدت کے دوران نئے ووٹرس کے لیے تقریباً 2.14 لاکھ فارم-6 (فارم-7 اور 8 کے علاوہ) ووٹرس کی جانب سے جمع کیے گئے۔ اس کے علاوہ اعتراضات اور دعووں کی مدت کے دوران ووٹرس کی جانب سے 8 دنوں میں (7 ستمبر تک) مزید 25,011 فارم-6 جمع کیے گئے ہیں، تاکہ ان کے نام 4 نومبر کو شائع ہونے والی آخری ووٹر لسٹ میں شامل کیے جا سکیں۔ الیکشن دفتر نے بتایا کہ ایس آئی آر سے پہلے اور دعووں و اعتراضات کی مدت میں جمع کیے گئے فارم-6 کے ساتھ فارم-7 اور 8 پر بھی کارروائی جاری ہے۔ درخواستوں کی منظوری کے بعد ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے، ہٹانے یا ترمیم کرنے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

اس درمیان عآپ کے قومی میڈیا انچارج انوراگ ڈھانڈا نے کہا کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے ذریعہ دھاندلی کر کے راگھو چڈھا کو دہلی کا ووٹر بنا دیا ہے، جبکہ 3 ستمبر تک راگھو چڈھا پنجاب کے ووٹر تھے۔ انہوں نے کہا کہ 31 اگست کو آئی دہلی کی ڈرافٹ رول میں راجندر نگر بوتھ پر صرف 746 ووٹ تھے، لیکن بعد میں 767واں ووٹ راگھو چڈھا کا جوڑ دیا گیا، جو ممکن ہی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ 3 ستمبر کو راگھو چڈھا نے خود دعویٰ کیا تھا کہ وہ پنجاب کے ووٹر ہیں اور عآپ حکومت نے پنجاب کی ڈرافٹ رول سے ان کا نام کٹوا دیا ہے۔ ایسے میں الیکشن کمیشن بتائے کہ کیا راگھو چڈھا کا ووٹ پنجاب سے دہلی منتقل ہوا اور کیا ایپک نمبر پنجاب کا ہی ہے؟


انوراگ ڈھانڈا نے الزام عائد کیا کہ ایس آئی آر میں کھلے عام بی جے پی کی داداگیری چل رہی ہے۔  ایس آئی آر میں جس کا چاہے نام شامل کر دیا جاتا ہے اور جس کا چاہے نام کاٹ دیا جاتا ہے۔ اس کے لیے کوئی عمل نہیں ہے، جو ضروری چیزیں ہیں ان پر عمل نہیں کرنا ہے۔ ایس آئی آر کے نام پر ووٹ شامل کرنے اور کاٹنے کا کھلے عام ایسا کاروبار چل رہا ہے، جس کے ذریعہ جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔