پنجاب ایس آئی آر: ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں راگھو چڈھا کا نام شامل نہیں، عآپ حکومت پر چڈھا کا اظہارِ برہمی
راگھو چڈھا نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’عام آدمی پارٹی بھلے ہی پنجاب حکومت چلا رہی ہو، لیکن پنجاب کی ’ڈرافٹ ووٹر لسٹ‘ اس کی ذاتی جائیداد نہیں ہے۔‘‘

پنجاب کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا کا نام شامل نہیں ہے۔ انہوں نے اپنا نام بطور ’شفٹیڈ‘ درج کیے جانے پر پنجاب حکومت پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ راگھو چڈھا نے محض ’کلیرکل مسٹیک‘ ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سیاسی انتقام کی کارروائی کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پنجاب سے موجودہ راجیہ سبھا رکن ہیں اور ان کی ووٹر آئی ڈی موہالی میں رجسٹرڈ ہے۔ اس کے باوجود ’ڈرافٹ ووٹر لسٹ‘ میں ان کے نام کو ’شفٹیڈ‘ بتایا گیا ہے۔
راگھو چڈھا نے کہا کہ راحت کی بات یہ ہے کہ فی الحال یہ ’ڈرافٹ ووٹر لسٹ‘ ہے، حتمی لسٹ نہیں ہے۔ ناموں میں اصلاح کا مرحلہ ’دعویٰ اور اعتراض‘ کے تحت چل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حتمی ووٹر لسٹ اکتوبر 2026 میں شائع ہوگی۔ چڈھا کے مطابق وہ ’اسپیشل انٹینسیو ریویزن‘ (ایس آئی آر) کے رہنما خطوط کے تحت فراہم کردہ اقدامات سے فائدہ اٹھانے کے عمل میں ہیں۔ حالانکہ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ ان کے نام کو ’شفٹیڈ‘ کے طور پر درج کیا جانا محض ’کلیرکل مسٹیک‘ نہیں لگتا ہے۔ چڈھا نے واضح طور پر کہا کہ یہ سیاسی انتقامی کارروائی ہے۔
انہوں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی پارٹی بھلے ہی پنجاب حکومت چلا رہی ہو، لیکن پنجاب کی ’ڈرافٹ ووٹر لسٹ‘ اس کی ذاتی جائیداد نہیں ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ انہیں شفٹیڈ کس نے درج کیا؟ ان کے مطابق یہ کام پنجاب کی عام آدمی پارٹی حکومت کے افسران نے کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ویریفکیشن کس نے کیا اور اسے اعلی سطح پر کس نے آگے بڑھایا۔ چڈھا نے الزام لگایا کہ سبھی سطح پر پنجاب حکومت کے افسران کا اہم کردار ہے۔
راگھو چڈھا نے کہا کہ زمین پر کام کرنے والے بوتھ لیول افسر (بی ایل او) سے لے کر پنجاب کے چیف الیکٹورل آفیسر تک اس پوری کارروائی کے انتظام میں پنجاب حکومت کے افسران شامل ہیں۔ ان کے مطابق بی ایل او عام طور پر پنجاب حکومت کا ایک جونیئر ملازم ہوتا ہے۔ اس کے بعد اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (اے ای آر او)، الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ای آر او) اور ڈسٹرکٹ الیکٹورل آفیسر (ڈی ای او) جیسے عہدوں پر بھی پنجاب حکومت کے افسران تعینات ہوتے ہیں۔ سب سے اوپر پنجاب کیڈر کے ایک آئی اے ایس افسر بطور چیف الیکٹورل آفیسر، پنجاب کام کرتے ہیں۔ چڈھا نے الزام لگایا ہے کہ یہ افسران جانتے ہیں کہ الیکشن ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد ان کے تبادلے، تعیناتی اور کیرئر پر عآپ حکومت کا اثر رہتا ہے۔ چڈھا نے کہا کہ افسران کو پتہ ہے کہ ان کا تبادلہ کون کر سکتا ہے۔ پنجاب حکومت اسی طرح سے سیاسی انتقامی کارروائی انجام دیتی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
