راگھو چڈھا سمیت عام آدمی پارٹی کے 7 راجیہ سبھا اراکین کا بی جے پی میں جانا... نوید حامد
’جھٹکا گوشت‘ کو فروغ دینے والی بی جے پی نے عام آدمی پارٹی اور اروند کیجریوال کو ایک بڑا جھٹکا دیا ہے۔ بی جے پی نے اس کے 10 میں سے 7 اراکین راجیہ سبھا کا ’جھٹکا‘ کر دیا ہے۔

سن 2014ء میں پورے ملک میں مسلمانوں نے تقریبا 72 لوک سبھا سیٹوں پر اروند کیجریوال کو زبردست ووٹنگ کی تھی۔ نتیجۂ کار ان سبھی سیٹوں پر کانگریس کی قیادت والی یو پی اے کے اتحادی امیدواروں کو شکست اور بی جے پی و اتحادی پارٹی کے امیدواروں کو کامیابی ملی تھی۔ اگر بی جے پی سربراہی والے این ڈی اے اتحاد کے یہ 72 امیدوار نہ جیتے ہوتے تو مرکز میں کبھی مودی حکومت نہ بنتی۔
2014 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد دہلی اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں نے ایک بار پھر کیجریوال کو بھرپور ووٹ دے کر عام آدمی پارٹی کی مضبوط حکومت بنوائی تھی۔ پنجاب انتخابات میں بھی مسلم اکثریتی ضلع مالیر کوٹلہ میں 2 بار سے عام آدمی پارٹی کے امیدوار نے کانگریس کی روایتی نشست چھینی، کیونکہ وہاں سے بھی مسلمانوں نے کانگریس کا ’ہاتھ‘ نہ تھام کر ’جھاڑو‘ کو تھام لیا۔
دہلی میں اُس وقت یہ خبر خوب گشت کر رہی تھی کہ دہلی ریاستی انتخابات میں عام آدمی پارٹی نی جتنے بھی مسلم امیدوار اتارے تھے ان سب سے بھاری رقوم لی گئی تھیں۔ عرف عام میں اس بات کا چرچہ تھا کہ دہلی کی کابینہ میں مسلمان کی نمائندگی کے لئے اور حج کمیٹی کی چیئرمین شپ کے لیے بھی بولی لگی تھی۔
جب دہلی سے راجیہ سبھا کے لئے نامزدگی کا عمل چل رہا تھا تو اسی میں من مٹاؤ کی وجہ سے عام آدمی پارٹی کے اُس وقت کے لیڈر اور معروف ہندی شاعر کمار وشواس نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا اور یہ الزام لگے تھے کہ دہلی کانگریس میں اجئے ماکن کی ٹیم میں پردیش کانگریس کمیٹی کے خزانچی سشیل گپتا نے راتوں رات پالہ بدل 5 کروڑ روپیہ کی خطیر رقم کے عوض میں دہلی سے عام آدمی پارٹی کا امیدوار بن راجیہ سبھا کی سیٹ حاصل کی تھی۔
دہلی میں راجیہ سبھا انتخابات کے موقع پر مسلمانوں کی خواہش تھی کہ 3 سیٹوں میں سے کم از کم ایک سیٹ مسلمانوں کو ملے اور دہلی کے کسی باوقار مسلمان کو عام آدمی پارٹی راجیہ سبھا بھیجے۔ اسی مطالبہ کی سگبگاہٹ کے درمیان کانگریس پارٹی اقلیتی شعبہ کے موجودہ چیئرمین اور خوش گلو شاعر عمران پرتاپ گڑھی، جو پارٹی کے رکن بھی نہیں تھے نے اروند کیجریوال سے کئی میٹنگیں کی تھیں اور راجیہ سبھا کی نامزدگی کے لئے ان سے درخواست کی تھی۔ لیکن تب ان کی راجیہ سبھا میں جانے کی خواہش پوری نہ ہو سکی تھی۔ ان کے ساتھ ساتھ کئی اور دوسرے مسلم متمنی بھی مایوس ہو کر گھر بیٹھ گئے تھے۔ راجیہ سبھا کے لئے ریاست پنجاب سے انتخابات کے موقع پر معصوم مسلمانوں کو توقع تھی کہ کسی مسلمان کے نام پر شاید غور کیا جائے۔ لیکن اروند کیجریوال جیسا گھاگھ آدمی، جنہوں نے سافٹ ہندوتوا کی سیاست کر سَنگھ کے کیڈر میں گھس پیٹھ کے سیاسی داؤ پیچ کھیلے، ان کو یہ کیسے منظور ہو سکتا تھا کہ پارٹی سے کوئی مسلم راجیہ سبھا پہنچنے کا خواب بھی دیکھے۔
اصل میں عام آدمی پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے کبھی اس بات پر توجہ نہیں دی کہ اس کی صفوں میں ایک سیاسی شعور رکھنے والا کوئی مسلم چہرہ ابھرے۔ اب ’جھٹکا گوشت‘ کو فروغ دینے والی بی جے پی نے عام آدمی پارٹی اور اروند کیجریوال کو ایک بڑا جھٹکا دیا ہے۔ بی جے پی نے اس کے 10 میں سے 7 اراکین راجیہ سبھا کا ’جھٹکا‘ کر دیا ہے۔ ان میں سے کئی اراکین راجیہ سبھا ایسے ہیں جن کے بارے میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے پارٹی کو بھاری رقومات دے کر راجیہ سبھا کی رکنیت حاصل کی تھیں۔
ملک کے ’دَل بدلو مخالف قانون‘ کے عتاب سے بچنے کے لئے ان دَل بدلوؤں کو 10 اراکین میں سے راجیہ سبھا کی رکنیت بچانے کے لئے دو تہائی اراکین کی حمایت نہ ملی ہوتی تو، عام آدمی پارٹی کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ اور یہ تبھی ممکن تھا اگر عام آدمی پارٹی کے 10 اراکین میں کوئی ایک مسلم راجیہ سبھا رکن ہوتا۔ ایسا ہوتا تو دَل بدلوؤں کو دو تہائی اکثریت نہیں مل پاتی اور نہ ہی بی جے پی کی ’جھٹکا سیاست‘ کامیاب ہو پاتی۔
(بشکریہ فیس بک)
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔