یہ انتخابات سیمی فائنل ہوں یا نہ ہوں، لیکن تاریخی اور اہم ضرور ہیں... سید خرم رضا

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ چاہے ہم ان پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کو 2024 کے عام انتخابات سے پہلے سیمی فائنل قرار دیں یا نہ دیں لیکن یہ اہم ضرور ہیں۔

user

سید خرم رضا

پانچ ریاستوں کے لئے انتخابی بگل بج چکا ہے۔ انتخابی کمیشن نے تاریخوں اور ضابطوں کا اعلان کر دیا ہے اور آزاد ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے جب انتخابات کے دوران ہر طرح کی ریلی، اجلاس، روڈ شو اور سائیکل شو پر مکمل پابندی ہے۔ سیاسی پارٹیوں، امیدواروں اور رہنماؤں کو صرف ڈجیٹل خطاب پر ہی انحصار کرنا پڑے گا یعنی روایتی جلسے جلوس ان انتخابات میں فی الحال دیکھنے کو نہیں ملیں گے۔

ظاہر ہے کہ رائے دہندگان سے لے کر پارٹی اور اس کے امیدواروں کے لئے یہ مرحلہ چیلنج سے بھرا تو ہوگا، لیکن وبا کے پیش نظر اور کوئی راستہ بھی نہیں ہے۔ بڑے بڑے جلسوں اور جلوسوں کے ذریعہ سیاسی پارٹیاں جو رائے دہندگان کو اپنی جانب راغب کرنے میں جہاں کامیاب ہو جاتی تھیں، وہیں ان کو ان جلسے جلوسوں کے ذریعہ عوام کی نبض ٹٹولنے میں بھی مدد ملتی تھی۔ صرف سیاسی پارٹیاں ہی کیوں بلکہ میڈیا گھرانے اور صحافیوں کو بھی بہت مدد ملتی تھی۔ سیاسی پارٹیاں جہاں ان جلسے جلوس کی بنیاد پر ایک دوسرے پر طنز اور جملہ بازی کرتے تھے وہیں صبح کو چائے کے ہوٹل پر بیٹھ کر عوام بھی اپنی سیاسی چائے کو گرم کر لیتے تھے لیکن اب وبا کی وجہ سے جس طرح تعلیمی نظام میں یکسر تبدیلی رونما ہوئی ہے ویسے ہی انتخابات میں بالکل نئی طرح کی چیزیں دیکھنے کو ملیں گی۔


جن پارٹیوں کے پاس پہلے سے سوشل میڈیا کا ایک ڈھانچہ بنا ہوا ہے ان کو اس میں اسی طرح تھوڑا فائدہ ہوگا جیسے ان پرائیویٹ اسکول کے طلباء کو آن لائن تعلیم حاصل کرنے میں فائدہ ہوا، ان بچوں کو نہ تو موبائل یا لیپ ٹاپ خریدنا پڑا اور نہ ہی انہیں لنک ڈاؤن لوڈ کرنے میں کوئی دشواری پیش آئی۔ اسی طرح جو سیاسی پارٹیاں پہلے سے ڈجیٹل ذرائع میں کام کر رہی تھیں ان کو تھوڑا فائدہ تو ہے۔ اس میں بڑی سیاسی پارٹی جیسے حکمراں بی جے پی، کانگریس اور سماج وادی پارٹیاں شامل ہیں، لیکن چھوٹی پارٹیوں کو جلد بازی میں تیاری کرنے میں دشواری بھی ہوگی اور ان کا پیسہ بھی زیادہ خرچ ہوگا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پنچ ریاستوں میں ان پارٹیوں کو تھوڑا فائدہ ضرور ہوگا جو ان ریاستوں میں برسر اقتدار ہیں۔

اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ چاہے ہم ان پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کو 2024 کے عام انتخابات سے پہلے سیمی فائنل قرار دیں یا نہ دیں لیکن یہ اہم ضرور ہیں۔ اہم کیوں نہ ہوں، کیونکہ ان پانچ ریاستوں میں ملک کی وہ ریاست بھی شامل ہے جہاں سے سب سے زیادہ ارکان پارلیمنٹ منتخب ہوتے ہیں۔ جی، اتر پردیش جہاں سے 80 ارکان پارلیمنٹ آتے ہیں اور اس ریاست میں 403 اسمبلی نشستیں ہیں، اس لئے ان انتخابات کو کوئی ہلکے میں نہیں لے سکتا۔ برسر اقتدار جماعت بی جے پی نے جہاں سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے وہیں حزب اختلاف کی بھی پوری کوشش ریاست میں بدلاؤ کی ہے۔ میدان میں اترنے والی تمام سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے ووٹر کو راغب کرنے کے لئے ہر ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں۔


’قومی آواز‘ بھی اپنے قارئین کو تازہ حالات سے آگاہ اور با خبر رکھنے کے لئے ریاستوں، سیاسی پارٹیوں اور اہم امیدواروں کے تعلق سے روزانہ ایک رپورٹ شائع کرنے کی کوشش کرے گا۔ انتخابات کے دوران سبھی قارئین کو انتخابات کی اہمیت اور اپنی صحت کا پورا خیال رکھنا ہوگا۔ کورونا وبا سے لڑنے کے لئے تمام ضابطوں پر عمل بھی کرنا ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 09 Jan 2022, 7:11 PM