طوفان ’امفان‘ پر کابینہ سکریٹری کی تیسری جائزہ میٹنگ، امت شاہ اور ممتا کی فون پر گفتگو

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے فون پر بات چیت کی اور امفان طوفان کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور مرکزی حکومت کی جانب سے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: کابینہ سکریٹری راجیو گوبا نے مغربی بنگال کی خلیج میں اٹھے امفان گردابی طوفان سے نمٹنے کے لئے ریاستوں اور مرکز کی تیاریوں کا قومی بحران منجمنٹ کمیٹی کی میٹنگ میں جائزہ لیا۔ گردابی طوفان کی وجہ سے پیدا ہوئے حالات سے نمٹنے کے لئے گوبا نے مسلسل تیسری میٹنگ کی اور افسروں کے ساتھ تمام پہلوؤں پر غوروخوض کیا۔ ادھر، وزیر داخلہ امت شاہ نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا سے فون پر بات کی اور ہر ممکن مدد کی یقین دہائی کرائی۔

محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ اس سپر گردابی طوفان کے بدھ کی دوپہر یا شام تک مغربی بنگال کے ساحل سے ٹکرانے کا خدشہ ہے۔ طوفان کے دوران ساحلی علاقوں میں 155 سے لے کر 185 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے تیز ہوا چلنے اور شدید بارش ہونے کا خدشہ ہے۔ اس سے مغربی بنگال میں مشرقی مدنا پور، جنوبی اور شمالی 24 پرگنا، ہاوڑہ، ہوگلی اور کولکاتہ ضلعوں کے متاثر ہونے کا اندازہ ہے۔ اس کا اثر گزشتہ نومبر میں مغربی بنگال میں آئے طوفان بلبل سے کہیں زیادہ ہونے والا ہے۔ اڈیشہ کے جگت سنگھ پور، کیندر پاڑا، بھدرک، جے پور اور بالاور ضلعوں میں بھی تیز ہوا اور شدید بارش ہونے کا خدشہ ہے۔


اوڈیشہ کے چیف سکریٹری اور مغربی بنگال کے اڈیشنل سکریٹری نے میٹنگ میں ان کی ریاست کے ذریعہ حالات سے نمٹنے کے لئے کیے گئے اقدامات کی اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ نچلے علاقوں سے لوگوں کو نکال کر محفوظ مقامات پر لے جایا جارہا ہے۔ غذائی اشیا، پینے کا پانی اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی مناسب طورپر کرلی گئی ہے۔ بجلی اور مواصلاتی خدمات کی جلد بحالی کے لئے بھی ٹیموں کو تیار رکھا گیا ہے۔

کابینہ سکریٹری نے دونوں ریاستوں سے نچلے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو صحیح سلامت نکالنے اور ضروری اشیا کی سپلائی کو یقینی بنانے کو کہا ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں قومی آفات سے بچاؤ دستے کی 36 ٹیمیں تعینات ہیں۔ فوج اور بحریہ کی ٹیموں کو بھی تیار رکھا گیا ہے۔


ادھر، مرکزی حکومت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ ساحل سمندر کے قریب رہائشیوں کو محفوظ مقامات تک مکمل طور پر منتقلی کو یقینی بنایا جائے اور ان تک ضروری اشیاء کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے۔ مغربی بنگال اور اڑیسہ اس طوفان کی وجہ سے بہت ہی زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس وقت طوفان کی رفتار 200 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق یہ طوفان بد ھ کی دوپہر یا پھر شام کو خلیج بنگال کے شمال مشرقی علاقے سے آگے بڑھ رہا ہے۔اس وقت طوفان کی رفتار 200 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے مگر یہ کم ہوکر 155-165 تک ہوجانے کی امید ہے۔ اگر اسی رفتار سے ساحلی علاقوں سے ٹکرایا تو محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں سب سے زیادہ شدت کا یہ طوفان ہوگا۔ یہ طوفان وشاکھم پٹنم آندھر اپردیش میں واقع ’ڈوپلر ویتھررڈرا‘(DWR) کے مسلسل ٹریک میں ہے۔ سائیکلون کی وجہ سے دہلی سے اڑیسہ آنے والی شرمک ٹرینوں کے روٹ کو تبدیل کردیا گیا ہے۔


محکمہ موسمیات نے کہا کہ طوفان بدھ سے قبل بنگال اور بنگلہ دیش کے ساحل سے نہیں ٹکرائے گا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے 6 گھنٹے میں طوفان کی شدت میں کچھ کمی آئے گی۔ مغربی بنگال کے دیگھا، سندر بن اور ہاتیا جیسے ساحلی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ مشرقی مدنی پور ضلع کے کئی علاقوں کو طوفا ن نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ضلع انتظامیہ نے ساحلی علاقوں میں وارننگ جاری کردی ہے۔این ڈی آر کی ٹیم دیگھا پہنچ چکی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق دیگھا سے جب طوفان ٹکرائے گا تو اس وقت اس کی رفتار 165 سے 175 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوگی۔ اس کا اثر مغربی بنگال کے موسم پر بھی پڑے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔