’2 اکتوبر کو راج گھاٹ میں لگتا ہے چوروں کا جماؤڑا‘

وشو بھارتی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ودیوت چکرورتی نے کہا کہ ’’2 اکتوبر کو گاندھی جی کے یوم پیدائش کے موقع پر راج گھاٹ میں جانا مشکل ہوتا ہے۔ ملک کے بڑے چور ٹوپی پہنے ہوئے یہاں پہنچ جاتے ہیں۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مغربی بنگال واقع وشو بھارتی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ودیوت چکرورتی نے مہاتما گاندھی کے تعلق سے انتہائی متنازعہ بیان دیا ہے۔ انھوں نے راجدھانی دہلی واقع مہاتما گاندھی کی سمادھی یعنی ’راج گھاٹ‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ اس جگہ پر 2 اکتوبر کو ’چوروں کا جماؤڑا‘ لگتا ہے۔

یہ متنازعہ بیان وشو بھارتی یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے جمعہ کے روز کولکاتا واقع یونیورسٹی احاطہ میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’2 اکتوبر کو گاندھی جی کے یوم پیدائش کے موقع پر راج گھاٹ میں جانا مشکل ہوتا ہے۔ ملک کے بڑے چور ٹوپی پہنے ہوئے یہاں پہنچتے ہیں۔ باقی پورے سال وہ وہی کرتے ہیں جن پر گاندھی جی کو اعتراض تھا۔‘‘

چکرورتی نے اپنی طویل تقریر کے دوران کہا کہ لوگ ان کچھ لوگوں کے خلاف نہیں بولتے جو گاندھی جی جیسی ہستیوں کی جینتی پر انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، مہاتما گاندھی کی سادہ زندگی کی بات کرتے ہیں، لیکن وہ خود ان الفاظ پر بھروسہ نہیں کرتے اور بدعنوانی کرتے ہیں۔‘‘

اس سلسلے میں جب وشو بھارتی یونیورسٹی کے پبلک رلیشن افسر (پی آر او) سے میڈیا نے سوال کیا تو صفائی پیش کی گئی کہ ’’انھوں (وائس چانسلر) نے صرف ایک مثال پیش کی تھی۔ اس تبصرہ کے ذریعہ وہ موجودہ حالت کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ وہ یہ بتانا چاہ رہے تھے کہ ایسی ہی حالت وشو بھارتی یونیورسٹی میں بھی ہے۔ وائس چانسلر یونیورسٹی کی درخشاں روایت واپس لانا چاہتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ودیوت چکرورتی نے اپنی تقریر کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ ’’کئی لوگ وشو بھارتی کو سونے کا انڈا دینے والی مرغی کی طرح استعمال کرتے ہیں اور رویندر ناتھ ٹیگور کے ذریعہ قائم کردہ اس ادارہ کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔‘‘