کولکاتا پنڈال بھگدڑ معاملے کی عدالتی جانچ ہوگی، کلکتہ ہائی کورٹ نے کمیشن تشکیل دینے کی ہدایت دی
ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے مغربی بنگال حکومت کو ہدایت دی کہ وہ چورباگان سروجنِن کمیونٹی درگا پوجا کمیٹی کے پنڈال میں بھگدڑ کے سانحے کی جانچ کے لیے ایک عدالتی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے۔

کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رویندر وٹھل راؤ گھوگے نے منگل (20 اکتوبر) کو مغربی بنگال حکومت کو ہدایت دی کہ وہ 17 اکتوبر کی رات چورباگان سروجنِن کمیونٹی درگا پوجا کمیٹی کے پنڈال میں بھگدڑ کے سانحے کی جانچ کے لیے ایک عدالتی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ریاستی حکومت ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دے۔ واضح رہے کہ اس بھگدڑ میں مجموعی طور پر 19 افراد کی موت ہوگئی تھی۔
اس سے قبل مغربی بنگال کے چیف سکریٹری منوج کمار اگروال نے چیف جسٹس گھوگے کے دفتر کو خط بھیج کر ان سے معاملے کی جانچ کے لیے کلکتہ ہائی کورٹ کے کسی بھی موجودہ جج کو نامزد کرنے کی درخواست کی تھی۔ حالانکہ چیف جسٹس گھوگے کے دفتر نے ریاستی حکومت کو مطلع کیا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ حکم کے مطابق کسی بھی کمیشن میں موجودہ جج کی تقرری ممکن نہیں ہے۔ اس لیے ریاست کو معاملے کی عدالتی جانچ کے لیے اپنی پسند کے کسی ریٹائرڈ جج کا انتخاب کرنا ہوگا۔
منگل کو ریاستی وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے سانحے میں ہلاک ہونے والے کچھ لوگوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور انہیں معاوضے کے چیک سونپے۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ عدالتی تحقیقاتی کمیشن کے ذریعے معاملے کی جنگی سطح پر تحقیقات مکمل کرنے اور اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری بدھ (21 اکتوبر) کو سانحے میں ہلاک ہونے والے دیگر لوگوں کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کریں گے۔
قابل ذکر ہے کہ 17 اکتوبر کی رات پیش آئے حادثے کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ نے عدالتی تحقیقاتی کمیشن کے ذریعے معاملے کی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا تھا کہ تحقیقات میں غیر جانبداری برقرار رکھنے کے لیے کولکاتا پولیس، ریاستی فائر بریگیڈ محکمہ اور کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے نمائندوں کو عدالتی جانچ کمیٹی میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ اگر کوئی بھی لاپرواہی کا قصوروار پایا گیا، خواہ وہ پوجا کمیٹی کا منتظم ہو یا پولیس اہلکار، اسے بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو 25 لاکھ روپے کا مالی معاوضہ اور گروپ ڈی کے عہدے پر ملازمت دینے کا بھی اعلان کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال حکومت زخمیوں کے علاج کا خرچ برداشت کرے گی اور انہیں 5 لاکھ روپے کی مالی امداد بھی فراہم کرے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
