پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے میں کوئی حرج نہیں: فاروق عبداللہ

جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے سرپرست اعلیٰ اور ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداﷲ نے پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے پر زور دیا ہے

فاروق عبداللہ، تصویر یو این آئی
فاروق عبداللہ، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

جموں: جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے سرپرست اعلیٰ اور ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبدا ﷲ نے پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب چین کے ساتھ بات ہو سکتی ہے تو پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے میں کیا حرج ہے۔

ان باتوں کا اظہار انہوں نے جموں میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔ ڈاکٹر فارو ق عبدا ﷲ نے کہا کہ حالات کو معمول پر لانے کی خاطر بات چیت واحد راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ این سی لیڈر کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری زمین پر قبضہ کرنے والے چین کے ساتھ بات چیت ہو سکتی ہے تو پاکستان کے ساتھ کیوں نہیں‘؟ ۔ انہوں نے کہا کہ دھمکیوں سے آج تک کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا بلکہ بات چیت کے ذریعے ہی سبھی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔


فاروق عبدا ﷲ نے بتایا کہ پاکستان ہماری سرحد کے اندر نہیں تاہم چین سرحد کے اندر بیٹھا ہوا ہے جب اُن سے بات ہو سکتی ہے تو پاکستان ہمارا قریبی ہمسایہ ہے اُس کے ساتھ بات چیت کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہو نی چاہئے۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ دوریوں کو پاٹنے کی خاطرہمسایہ ملک کے ساتھ تجارتی روابط کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

حیدر پورہ مبینہ تصادم کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں فاروق عبدا ﷲ نے کہا کہ اصل حقائق جوڈیشل تحقیقات کے ذریعے ہی سامنے آسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مجسٹریٹ حکومت کے کہنے پر ہی سب کچھ کرتا ہے تو ایسے میں اس انکوائری پر سوالات اُٹھانا جائز ہے۔ این سی سرپرست نے کہا کہ حیدر پورہ انکاونٹر کے حقائق منظر عام پر لانے کی خاطر عدالتی تحقیقات ناگزیر ہے تاکہ متاثرین کو انصاف فراہم ہو سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔