...تو ’موہن بھاگوت‘ کو بھی دہشت گرد ٹھہرایا جائے گا!

راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’کرونی کیپٹلسٹ کے لیے پی ایم مودی پیسہ بنا رہے ہیں۔ جو بھی ان کے خلاف کھڑا ہونے کی کوشش کرے گا، وہ دہشت گرد کہلائے گا۔ وہ چاہے کسان ہو، مزدور ہو، یا موہن بھاگوت۔‘‘

تصویر قومی آواز/ویپن
تصویر قومی آواز/ویپن
user

تنویر

مودی حکومت کے ذریعہ مبینہ طور پر سرمایہ داروں کے حق میں کام کرنے اور اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ملک مخالف ٹھہرائے جانے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ایک بار پھر میڈیا کے سامنے بیان دیا ہے۔ انھوں نے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے واضح لفطوں میں کہا کہ ’’کرونی کیپٹلسٹ کے لیے پی ایم مودی پیسہ بنا رہے ہیں۔ جو بھی ان کے خلاف کھڑا ہونے کی کوشش کرے گا، وہ دہشت گرد کہلائے گا۔ وہ چاہے کسان ہو، مزدور ہو، یا موہن بھاگوت۔‘‘

راہل گاندھی کا یہ بیان اس لیے سامنے آیا ہے کیونکہ متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف پورے ملک میں کسانوں کی تحریک جاری ہے اور لگاتار ان قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود مودی حکومت اپنے قدم پیچھے کھینچنے کے لیے تیار نہیں ہے، بلکہ حکمراں جماعت سے جڑے کئی اہم وزراء و لیڈران نے کسانوں کی تحریک میں خالصتانیوں اور نکسلیوں کی شرکت کا الزام بھی عائد کر دیا ہے۔ اس پر کسان تنظیموں نے ناراضگی کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ یہ کسانوں کی تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش کے تحت دیا گیا بیان ہے۔ راہل گاندھی نے بی جے پی لیڈروں کے کسان مخالف بیانات کے پیش نظر ہی یہ بیان دیا ہے کہ اگر مودی حکومت کے ذریعہ سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے والے اقدام کی مخالفت موہن بھاگوت کریں گے، تو انھیں بھی دہشت گرد ٹھہرایا جائے گا۔

اس درمیان راہل گاندھی نے ہندوستان سے جمہوریت کے مفقود ہو جانے کی بھی بات نامہ نگاروں سے کہی۔ انھوں نے ایک ٹوئٹ میں بھی اس بات کا اظہار کیا اور لکھا ہے کہ ’’ہندوستان میں جمہوریت اب تصوراتی ہے۔‘‘ دراصل آج جب راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس لیڈروں کا وفد راشٹرپتی بھون کی طرف بڑھ رہا تھا تو کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی سمیت کانگریس کے کئی لیڈروں کو حراست میں لے لیا گیا اور راہل گاندھی کو صرف 2 کانگریس لیڈروں کے ساتھ صدر جمہوریہ سے ملاقات کی اجازت ملی۔ اسی کو دیکھتے ہوئے راہل گاندھی نے بیان دیا ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت اب خواب کی بات رہ گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 24 Dec 2020, 4:10 PM