پرنب دا ایک ایسے سیاستداں جو حقیقی دوست اور رہنما تھے

پرنب مکھرجی پانچ دہائیوں کی اپنی عمدہ عوامی زندگی میں ، متعدد اعلی عہدوں پر فائز رہتے ہوئے بھی ہمیشہ زمین سے جڑے رہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

صدر رام ناتھ کووند، نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو، وزیر اعظم نریندر مودی ، کانگریس کی صدر سونیا گاندھی، ڈاکٹر منموہن سنگھ اور راہل گاندھی نے آج سابق صدر پرنب مکھرجی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا۔

مسٹر کووند نے ٹوئیٹر پر اپنے پیغام میں کہا ، "سابق صدر ، پرنب مکھرجی کے انتقال کے بارے میں سن کر دل کو صدمہ پہنچا۔ ان کی موت ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ میں مسٹر پرنب مکھرجی کے کنبہ، دوستوں اور ملک کے تمام باشندگان سے گہری تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ "

انہوں نے کہا ، "غیر معمولی سوچ کے دھنی، بھارت رتن مسٹر مکھرجی کی شخصیت میں قدیم اور جدیدیت کا ایک انوکھا سنگم تھا-پانچ دہائیوں کی اپنی عمدہ عوامی زندگی میں ، متعدد اعلی عہدوں پر فائز رہتے ہوئے وہ ہمیشہ زمین سے جڑے رہے۔ وہ اپنی نرم اور ملنسار طبیعت کی وجہ سے سیاسی میدان میں مقبول تھے۔ "

مسٹر ونکیا نائیڈو نے کہا ، "مسٹر مکھرجی کے انتقال سےبہت تکلیف پہنچی ہے اور ان کے انتقال سے ملک نے ایک بزرگ سیاستدان کو کھو دیا ہے جنہوں نے عام شہری کے طور پر اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا تھا اور وہ اپنی محنت ، نظم و ضبط اور پابند عہد سے ملک کے اعلی ترین آئینی عہدے پر پہنچے تھے۔ اپنی طویل اور ممتاز عوامی زندگی میں، انہوں نے ہر عہدے کو وقار بخش دیا اور ہر عہدے کے وقار کو برقرار رکھا۔ اوم شانتی ، سوگوار خاندانوں سے میری تعزیت۔ "

مسٹر مودی نے اپنے تعزیتی پیغام میں ، کہا ، "ان کے انتقال سے پورا ہندوستان غمزدہ ہے اور انہوں نے قوم کی ترقی کی راہ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ وہ ایک نامور عالم ، سیاست دان ، سیاست اور معاشرے کے تمام طبقات میں مقبول رہے۔ کئی دہائیوں کی سیاسی زندگی کے دوران، مسٹر مکھرجی نے اہم طور پر معاشیات اور اسٹر ٹیجک وزارتوں میں طویل عرصے تک کام کیا۔ وہ ایک ممتاز پارلیمنٹیرین تھے جو بہت ہی فعال تھے اور خوش مزاج طبیعت کے مالک بھی تھے۔ "

اپنے ٹوئیٹ پیغام میں ، مسٹر شاہ نے کہا ، "سابق صدر اور بھارت رتن پرنب مکھرجی کے انتقال سے گہرا دکھ پہنچا ہے۔ وہ ایک بہت ہی تجربہ کار رہنما تھے جنہوں نے پوری لگن کے ساتھ ملک کی خدمت کی۔ پرنب دا کا ممتاز کیریئر پورے ملک کے لئے باعث فخر ہے۔ "مسٹر مکھرجی کے انتقال پر حکومت نے سات روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔

محترمہ گاندھی نے مسٹر پرنب مکھرجی کی صاحبزادی اورکانگریس کی لیڈر شرمشٹھا مکھرجی کو ایک تعزیتی پیغام میں کہا، "مسٹر مکھرجی نے پانچ دہائیوں سے زیادہ کی اپنی سیاسی زندگی میں ملک اور کانگریس کو سمت دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کا طویل تجربہ ہے اور میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ پارٹی کانگریس کو آگے بڑھانے میں جو کردار ادا کیا ہے اسے پارٹی ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مکھرجی نے ملکی ترقی میں مستقل کام کیا ہے اور وہ عمر بھر قومی مفادات سے منسلک رہے۔ ملک کیو آگے بڑھانے ، کانگریس کی ترقی اور مرکزی حکومت میں رہ کر قومی ترقی میں ان کی شراکت ناقابل فراموش کردار ہے۔وہ علم ، تجربے اور جانکاری والی شخصیت سے مالا مال تھے اور ان کی تفہیم اور صلاح مشورہ ہر بحران کا حل تھا اور ان کی عدم موجودگی میں ان کی کمی ہمیشہ کھلے گی۔

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ، "انہوں نے اور میں نے ہندوستانی حکومت میں بہت قریب سے کام کیا۔ میں نے ان کی بے پناہ ذہانت ، مناسب علم اور عوامی امور کے ان کے تجربے پر انحصار کیا۔ غم کی اس گھڑی میں ، میں ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے اپنے تعزیتی پیغام "سابق صدر پرنب مکھرجی کے انتقال کی بری خبر موصول ہوئی ہے۔ میں انھیں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور غم کے اس لمحے میں سوگوار کنبہ کے افراد اور دوستوں سے تعزیت کرتا ہوں۔"کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ "سابق صدر پرنب مکھرجی کی موت پورے ملک کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ پرنب دا ایک مشیر اور ایک ماہر سیاست دان تھے جس نے پورے کانگریس خاندان کی رہنمائی کی۔ دلی خراج عقیدت۔ خدا غم کی اس گھڑی میں گھر والوں کو تکلیف برداشت کرنے کی ہمت عطا کرے۔ "

راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف، غلام نبی آزاد نے ملک اور خود کو ایک بہت بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے حقیقی دوست اور رہنما تھے۔ کانگریس کے رہنما احمد پٹیل نے بھی مسٹر مکھرجی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس کے رہنما اور سابق مرکزی وزیر پی چدم برم نے بھی پارٹی پریس کانفرنس میں مسٹر مکھرجی کے انتقال پر غم کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک میں کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا جو ان کے نام سے واقف نہ ہو اور جو ملک کی ترقی میں ان کی شراکت سے واقف نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ وہ مسٹر مکھرجی کے ساتھ ایک طویل عرصے سے رہے ہیں لیکن 2004 سے 2014 کے درمیان انہیں مسٹر مکھرجی کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران انہوں نے دیکھا کہ ملک کے عام آدمی کے لئے ان میں گہری تشویش ہے اور کانگریس کو ان کی موت کی وجہ سے ایک بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرنب دا جیسے لوگ سیاست میں بہت کم ہوتے ہیں۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے پیر کے روز سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کے انتقال پرتعزیت کا اطہار کیا۔

مسٹر برلا نے اپنے پیغام میں کہا ، "بھارت رتن سابق صدر پرنب مکھرجی کی موت پر تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ اپنی پانچ دہائیوں سے زیادہ کی عوامی زندگی میں ، انہوں نے ملک کے لئے مثالی خدمات انجام دیں۔ پارلیمانی اور انتظامی شعبے میں ان کا تجربہ بے مثال تھا ، جو ان کے طرز عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔ " مارکسی ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی-ایم) نے سابق صدر پرنب مکھرجی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور انہیں ملک کے اہم سیاستدانوں میں سے ایک قرار دیا۔ سی پی آئی (ایم) پولیٹ بیورو کے ذریعہ پیر کو یہاں ایک تعزیتی پیغام میں کہا کہ، مسٹر مکھرجی نے نہ صرف ایک رکن پارلیمنٹ بلکہ ایک مرکزی وزیر کی حیثیت سے بھی بہت سی حکومتوں میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ ملک کے ممتاز سیاستدانوں میں شامل تھے۔

یہاں جاری ایک تعزیتی پیغام میں، مسٹر بگھیل نے کہا کہ مسٹر مکھرجی نے اپنے طویل سیاسی کیریئر میں، ملک کی ترقی اور معاشرے کے ہر طبقے کے مفاد کے لئے کام کرنے میں ایک بے مثال شراکت نبھائی۔ ان کی موت قومی نقصان ہے، اس کمی کو کبھی پورا نہیں کیا جاسکتا۔اوڈیشہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک نے سابق صدر پرنب مکھرجی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی پیغام میں ، مسٹر پٹنائک نے کہا ، "سابق صدر مسٹر مکھرجی ہندوستان کے بڑے سپوت تھے۔ اسے تقریبا تمام موضوعات کا بہتر علم تھا۔ زندگی کے تمام پہلوؤں پر ان کا عملی ، عقلی اور متوازن نظریہ تھا۔ "

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next