’مسلمانوں کی فلاح و بہبود قرآن پر عمل کیے بغیر ممکن نہیں‘

مولانا فرید الدین قاسمی نے کہا کہ ایک سے ایک ذہین فطین ہوتے ہیں لیکن سب کے حصے میں قرآن کا حفظ نہیں آتا۔ ان لوگوں پر اللہ کا کرام ہے جنہوں نے قرآن کریم کا حفظ مکمل کیا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: ملک کے بحرانی دور میں قرآن کریم کے پیغام کو عام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند (وقف) کے استاذ حدیث و فقہ مولانا فرید الدین قاسمی نے قرآن کریم ثواب کے لئے پڑھی جانے والی کتاب نہیں بلکہ اس پر عمل کرنے والی کتاب ہے اور مسلم امت کی اس وقت تک فلاح بہبود نہیں ہوسکتی جب تک قرآن پر مکمل طور پر عمل نہ کریں۔

مولانا فرید الدین نے گزشتہ دیر رات یہاں مدرسۃ المعارف مسجد اقراء کے زیر اہمام جلسہ دستار بندی کے بعد لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم صرف ثواب کی نیت سے پڑھنے کی کتاب نہیں، بلکہ عمل کرنے کی کتاب ہے اور مسلمانوں کے درمیان جو متعدد مسائل ہیں اس کی وجہ ترک قرآن ہے۔ مولانا فریدالدین کے ساتھ مدرسۃ المعارف سے حفظ کرنے والے طلباء محمد فیصل، محمد معراج، محمد ریحان، محمد رفیق، محمد اقدس، محمد اسعد، محمد رابط، محمد احمد، محمد عمیدالزماں کی دستار بندی مولانا قاری سلیمان قاسمی، امام خطیب جامعہ جامع مسجد، مولانا عبدالقادر خاں قاسمی اور مولانا امتیاز احمد قاسمی اسلامک فقہ اکیڈمی نے بھی دستار بندی کی۔


مولانا فرید الدین نے کہا کہ ایک سے ایک ذہین شخص فطین ہوتے ہیں لیکن سب کے حصے میں قرآن کا حفظ نہیں آتا۔ ان لوگوں پر اللہ کا اکرام ہے جنہوں نے قرآن کریم کا حفظ مکمل کیا۔ انہوں نے حفظ کرنے والے حفاظ کرام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا بوجھ ہے جس میں پہاڑ جیسا طاقت ور بھی بوجھ اٹھانے کا اہل نہیں ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو قرآن سے جڑنے اور اس پر عمل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جس دن مسلمان اپنے اوپر قرآن پر عمل یقینی بنالیں گے اس دن مسلمانوں کے بیشتر مسائل حل ہوجائیں گے۔

اسلامک فقہ اکیڈمی کے مفتی امتیازاحمد نے کہا کہ قرآن وہ معجزاتی کتاب ہے جس کی تفسیر قیامت تک لکھی جاتی رہے گی اور اس کے نئے پہلو سامنے آتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہزاروں تفاسیر اور تراجم قرآن کے موجود ہیں لیکن اہل علم نئے پہلو اور نئے انکشافات کے ساتھ قرآن کریم کی تفسیرلکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم ہمارے لئے راہ عمل ہے لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہم نے صرف تبرک کی کتاب بنادیا ہے۔ مدرسۃ المعارف کے ناظم اور پروگرام کے کنوینر قاری سمیع اللہ نے پروگرام کے اغراض مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد لوگوں کو قران کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔