اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے مہاکمبھ کے لیے مختص اراضی پر قبضہ معاملہ میں حکومت سے جواب طلب کیا

حقِ اطلاعات کے تحت ملنے والی معلومات کے مطابق 644 افراد نے 215 بیگھا اراضی پر قبضہ کیا ہے اور قبضہ کرنے والوں میں مٹھ اور آشرم بھی شامل ہیں، اس میں مستقل اور عارضی دونوں قبضے شامل ہیں۔

اتراکھنڈ ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
اتراکھنڈ ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نینی تال: ہریدوار مہاکمبھ کے لئے الاٹ کی گئی تقریباً 215 بیگہے اراضی پر قبضے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے سے متعلق تمام دستاویزات عدالت میں پیش کرے۔ اسی کے ساتھ حکومت سے پوچھا گیا ہے کہ قبضہ کرنے والوں کے خلاف اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے۔

اس معاملے کو ہریدوار کے رہائشی دھرم ویر سینی کی جانب سے ایک مفاد عامہ کی عرضی کے ذریعے چیلنج کیا گیا ہے۔ عرضی گزار کی جانب سے کہا گیا کہ دریائے گنگا کے کنارے خالی پڑی محکمہ آبپاشی کی زمین اتر پردیش حکومت نے مہاکمبھ کی کامیاب انعقاد کے لیے اتراکھنڈ حکومت کو الاٹ کی تھی، لیکن 215 بیگھا زمین پر غیر قانونی قبضہ ہو گیا ہے۔


حقِ اطلاعات کے تحت ملنے والی معلومات کے مطابق 644 افراد نے 215 بیگھا اراضی پر قبضہ کیا ہے اور قبضہ کرنے والوں میں مٹھ اور آشرم بھی شامل ہیں۔ اس میں مستقل اور عارضی دونوں قبضے شامل ہیں۔ قبضہ کرنے والوں میں کافی مشہور لوگ بھی ہیں۔ عرضی گزار نے عدالت سے زمین خالی کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔