’ہم مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے‘، سپریم کورٹ نے دیوالی کے وقت پٹاخوں پر پابندی عائد نہ کرنے کا ارادہ کیا ظاہر

سی جے آئی نے کہا کہ ہم مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے، لیکن یہ دیکھیں گے کہ متوازن نقطۂ نظر کیا ہو سکتا ہے۔ سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ لوگ خود اپنا محاسبہ کریں۔ بیداری کے لیے اقدامات کرسکتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i

سپریم کورٹ نے ایک بار پھر اشارہ دیا ہے کہ وہ پٹاخوں پر پابندی عائد کرنے کا حکم نہیں دے گا۔ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی گرین پٹاخوں کی فروخت اور مقررہ وقت کے اندر ہی جلانے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ پابندی کو تعزیری کارروائی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ابھی ہمارے پاس وقت ہے کہ ہم متوازن حکم جاری کریں۔ لوگوں سے اپیل کی جائے گی کہ وہ تہوار منائیں اور وقت کی پابندی کا بھی خیال رکھیں۔

سماعت کے دوران ایک وکیل نے دلیل دی کہ پٹاخے جلانا مذہب کا بنیادی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوجا کرنا مذہبی عقیدے کا حصہ ہے، لیکن پٹاخے جلانا نہیں۔ بھگوان بھی یہ دیکھ کر حیران ہوں گے کہ خراب حالات میں ایسا ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) نے کہا کہ ہم مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے، لیکن یہ دیکھیں گے کہ متوازن نقطۂ نظر کیا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ لوگ خود اپنا محاسبہ کریں۔ لوگوں کو بیدار کرنے کے لیے آپ اقدامات کر سکتے ہیں۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 15 اکتوبر کو ہوگی۔


واضح رہے کہ دہلی-این سی آر میں پٹاخوں سے ہونے والی آلودگی کے معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی ہے۔ یہ معاملہ 2015 سے زیر سماعت ہے۔ اس دوران دہلی کی عدالت اتر پردیش سمیت شمالی ہندوستان کے آلودگی سے متاثرہ علاقوں میں اکتوبر سے جنوری کے دوران پٹاخوں کے استعمال کے سلسلے میں مختلف ہدایات جاری کرتی رہی ہے۔

اس سے قبل ہونے والی سماعت میں سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا تھا کہ لوگوں کو دو دن جشن منانے دیجیے۔ یہ صرف دیوالی، گرو پرو اور کرسمس جیسے تہواروں کے لیے ہے۔ اس پر عدالت نے کہا تھا کہ مکمل پابندی عائد کرنا نہ تو عملی ہے اور نہ ہی مثالی صورتحال ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ پابندی، یعنی 2018 کے بعد فضائی معیار کے اشاریے (اے کیو آئی) میں بہتری آئی ہے یا صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔