سپریم کورٹ میں اندرانی مکھرجی کی درخواست ضمانت پر 3 مارچ کو ہوگی سنوائی

مکل روہتگی نے کہا کہ مقدمہ گزشتہ تقریباً ساڑھے چھ سال سے چل رہا ہے اور شاید یہ اگلے 10 برسوں میں بھی ختم نہیں ہوگا۔ ابھی کئی گواہوں سے جرح کرنا باقی ہے، جبکہ متعلقہ سی بی آئی عدالت میں جج نہیں ہے۔

اندرانی مکھرجی، تصویر آئی اے این ایس
اندرانی مکھرجی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ممبئی کے شینا بورا قتل معاملے کی کلیدی ملزمہ اندرانی مکھرجی کی درخواست ضمانت پر 3 مارچ کو سماعت کرنے پراتفاق کیا ہے۔ جسٹس ایل ناگیشور راؤ اور جسٹس ٹی ایس نرسمہا کی بنچ کی بنچ نے جمعہ کو ملزم اندرانی کی درخواست ضمانت پر سنوائی کی اپیل کو قبول کرتے ہوئے اس سلسلے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے اپنا جواب داخل کرنے کو کہا۔ جسٹس راؤ نے کہا کہ بنچ دو ہفتوں کے بعد 13 مارچ کو اس معاملے کی سماعت کرے گی۔

بنچ کے سامنے سماعت کے دوران سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی نے کئی دلائل پیش کر کے اندرانی کی عرضی پر سماعت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’مقدمہ گزشتہ تقریباً ساڑھے چھ سال سے چل رہا ہے اور شاید یہ اگلے 10 برسوں میں بھی ختم نہیں ہوگا۔ ابھی اور بھی کئی گواہوں سے جرح کرنا باقی ہے، جبکہ متعلقہ سی بی آئی عدالت میں جج نہیں ہے‘‘۔


جسٹس راؤ نے روہتگی سے پوچھا کہ کتنے گواہوں کی گواہی باقی ہے۔ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ 185 گواہوں کی گوہی باقی ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال سے کسی کی گواہی نہیں ہوئی۔ سنہ 2021 کے جون سے متعلقہ عدالت میں جج کی اسامی خالی ہے۔ انہوں نے ملزم مکھرجی کے چھ سال سے زیادہ عرصے سے عدالتی حراست میں جیل میں رہنے اور اس کی بیماری کا بھی ذکر کیا۔

مرکزی ملزم نے خصوصی سی بی آئی عدالت کے سامنے بیان دیا تھا کہ جیل کے ایک قیدی نے انہیں (اندرانی) بتایا تھا کہ اس کی شینا سے کشمیر میں ملاقات ہوئی تھی۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں مرکزی جانچ ایجنسی نے ملزمہ اندرانی مکھرجی کے اس بیان پر جواب داخل کیا، جس میں شینا (اندرانی) کے زندہ ہونے کے دعوے کی جانچ کی مانگ کی گئی تھی۔ اندرانی کی ضمانت کی عرضی بامبے ہائی کورٹ مسترد چکا ہے۔ اس سے قبل 2016 سے 2018 تک خصوصی عدالت متعدد بار درخواست ضمانت مسترد کرچکی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔