جنتر منتر کو احتجاجی مقام سے ہٹائے جانے کی تمام عرضیوں پر 15 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں ہوگی سماعت
عرضی میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدالت پہلے ہی جنتر منتر پر محدود اور منظم طریقے سے احتجاجی مظاہروں کی اجازت دے چکی ہے۔ ایسے میں احتجاجی مقام کی فہرست سے ہٹانے کے فیصلے پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔

دہلی میں احتجاجی مظاہروں سے متعلق عرضیوں پر سپریم کورٹ 15 اکتوبر کو سماعت کرے گی۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے سے متعلق تمام عرضیوں پر ایک ساتھ سماعت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کی اس درخواست کو بھی منظور کر لیا، جس میں 2 عرضیوں پر جواب داخل کرنے کے لیے جمعرات تک کا وقت مانگا گیا تھا۔ ان میں سے ایک عرضی میں حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ حکام نے سپریم کورٹ کے 8 اکتوبر کے حکم پر عمل نہیں کیا۔ اس حکم میں دہلی میں احتجاجی مظاہروں کے دوران دہلی میٹرو، ریلوے خدمات اور بعض شہری خدمات پر عائد مکمل پابندی ہٹانے کی ہدایت دی گئی تھی۔
دوسری عرضی میں پولیس پر احتجاج سے وابستہ لوگوں کو مبینہ طور پر حراست میں لینے کا الزام لگایا گیا ہے۔ وہیں جنتر منتر سے متعلق دائر عرضی پر بھی 15 اکتوبر کو سماعت ہونے کا امکان ہے۔ اسی دوران جنتر منتر کو احتجاجی مظاہروں کے لیے مقررہ مقامات کی فہرست سے ہٹانے کے دہلی پولیس کے فیصلے کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدالت پہلے ہی جنتر منتر پر محدود اور منظم طریقے سے احتجاجی مظاہروں کی اجازت دے چکی ہے۔ ایسے میں احتجاجی مقام کی فہرست سے ہٹانے کے فیصلے پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔
عرضی میں دہلی پولیس کی جانب سے احتجاج کے لیے مقرر کیے گئے نئے مقامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض نئے مقامات دہلی کے کچرا پھینکنے کے مراکز کے قریب ہیں، جس کی وجہ سے مظاہرین کو وہاں احتجاج کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ جنتر منتر سے متعلق عرضی میں سپریم کورٹ کے 2018 کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں عدالت نے پرامن احتجاج کے حق اور مقامی رہائشیوں کو ہونے والی پریشانیوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ اب عرضی کے ذریعے سوال اٹھایا گیا ہے کہ جنتر منتر کو فہرست سے ہٹانے کا فیصلہ عدالتی ہدایات کے مطابق ہے یا نہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
