جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے پر انڈیا بلاک برہم، کہا- ’حکومت گھبرائی ہوئی ہے‘
انڈیا بلاک نے جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے پر حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے اسے عوامی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا اور ایس آئی آر اور انتخابی شفافیت پر جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا

نئی دہلی: دہلی میں احتجاج کے لیے مقرر مقامات کی فہرست سے جنتر منتر کو ہٹائے جانے کے فیصلے پر انڈیا بلاک کے رہنماؤں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے الزام لگایا کہ حکومت عوام کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن جمہوریت میں عوامی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ حکام نے جنتر منتر کی جگہ احتجاج کے لیے رام لیلا میدان، براڑی میدان اور مشرقی دہلی کے سی بی ڈی میدان کو مقرر کیا ہے۔
کانگریس کے سینئر رہنما دگ وجے سنگھ نے کہا کہ پارٹی جو فیصلہ کرے گی، اسی کے مطابق آگے بڑھا جائے گا۔ وہیں، کانگریس رہنما بھوپندر سنگھ ہڈا نے کہا کہ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت گھبرائی ہوئی ہے۔ وہ عوام کی آواز دبانا چاہتی ہے، لیکن جمہوریت میں ایسا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تحریک جاری رہے گی۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹائے جانے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ ہمالیہ کی چوٹی پر احتجاج کریں گے۔ سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے کہا کہ جنتر منتر کئی برسوں سے احتجاج کا ایک تاریخی مرکز رہا ہے، لیکن اب اسی مقام کو بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ملک کا ہر شہر اور ہر گوشہ جنتر منتر بن جائے گا۔ رانکا نے مطالبہ کیا کہ جب تک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیتے، ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر احتجاج کے لیے جگہ نہیں دی جا رہی ہے تو اب ماؤنٹ ایورسٹ پر جگہ دے دی جائے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ ان کی لڑائی جمہوریت کو بچانے کے لیے ہے۔ راہل گاندھی واضح کر چکے ہیں کہ یہ جمہوریت کے تحفظ اور انتخابی نظام کو شفاف بنانے کی جدوجہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جمہوریت کے ہر ستون تک پہنچے گی، جن میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے۔
بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے کہا کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف لڑائی سب سے پہلے بہار سے شروع ہوئی تھی۔ ان کے مطابق، اب ووٹوں کی چوری اور انتخابات میں دھاندلی کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے اپوزیشن کسی بھی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راجیو شکلا نے کہا کہ اپوزیشن چیف جسٹس آف انڈیا کے ریمارکس کے مطابق آگے بڑھے گی اور عدالت میں عرضی دائر کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں عدلیہ پر بھروسہ ہے۔
کانگریس رہنما سندیپ دیکشت نے کہا کہ یہ تحریک کافی عرصے سے جاری ہے اور راہل گاندھی کے ذریعہ ایس آئی آر کا معاملہ اٹھائے جانے کے بعد سے عوام میں بیداری بڑھی ہے۔ ان کے مطابق، طلبہ، مختلف تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں اس مہم میں شامل ہو رہی ہیں اور یہ جاری رہے گی۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے الزام لگایا کہ بی جے پی خوف زدہ ہے اور اسے معلوم ہے کہ وہ زیادہ عرصے تک اقتدار میں نہیں رہے گی۔ وہیں، کانگریس رہنما ایس سیڈوزمان نے الزام لگایا کہ انتخابات میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں، اہل ووٹروں کے نام فہرست سے ہٹائے گئے ہیں اور انتخابی عمل پر بی جے پی کا اثر ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
