’نیٹ-پی جی میں آٹھ لاکھ آمدنی کے معیار کا جائزہ لیا جائے گا’ مرکز کا سپریم کورٹ میں بیان

عدالت عظمیٰ نے پچھلی سماعت کے دوران مرکزی حکومت سے 8 لاکھ روپے کی آمدنی کے معیار کو طے کرنے کی 'بنیاد' بتانے کو کہا تھا، لیکن کئی سرزنش کے باوجود حکومت کی طرف سے کوئی واضح رائے نہیں دی گئی تھی

سپریم کورٹ کی تصویر، آئی اے این ایس
سپریم کورٹ کی تصویر، آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ میڈیکل کی پوسٹ گریجویٹ سطح کی کلاسوں میں داخلے سے متعلق ’نیٹ-پی جی‘ میں آل انڈیا کوٹا کے لئے دیگر پسماندہ طبقات کے امیدواروں (معاشی طور پر کمزور طبقات) کے لئے آٹھ لاکھ کی سالانہ آمدنی کے معیار پر نظرثانی کرے گی اس دوران کونسلنگ کے عمل پر پابندی رہے گی جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی تین رکنی بنچ کو سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سماعت کے دوران کہا کہ حکومت نے آٹھ لاکھ روپے کے معیارپر دوبارہ غورکرنے کافیصلہ کیا ہے۔

مہتا نے عدالت عظمیٰ کو حکومت کے فیصلے سے آگاہ کراتے ہوئے نظرثانی کے لیے چار ہفتوں کا وقت دینے کی درخواست کی۔ بنچ نے ان کی یہ درخواست قبول کرتے ہوئے کہا کہ اب اس معاملے کی سماعت جنوری میں ہوگی اور تب تک کونسلنگ کا عمل معطل رہے گا۔


عدالت عظمیٰ نے پچھلی سماعت کے دوران مرکزی حکومت سے 8 لاکھ روپے کی آمدنی کے معیار کو طے کرنے کی 'بنیاد' بتانے کو کہا تھا، لیکن کئی سرزنش کے باوجود حکومت کی طرف سے کوئی واضح رائے نہیں دی گئی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔