5 جھیلوں سے کشمیر کے کئی علاقوں میں تباہی کا خطرہ، اسٹڈی رپورٹ کو ریاستی حکومت نے بھی ٹھہرایا درست!

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر اسمبلی کو بتایا کہ انتہائی حساس جھیلوں کی ریموٹ سنسنگ اور ہدف پر مبنی جائزہ کے ذریعہ لگاتار نگرانی کی ضرورت ہے۔

<div class="paragraphs"><p>جھیل، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کشمیر یونیورسٹی کی ایک اسٹڈی سے پتہ چلا ہے کہ وادیٔ کشمیر کی 5 جھیلیں کئی علاقوں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں۔ یہ جھیلیں گلیشیئر کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب کے لیے بہت زیادہ حساس ہیں۔ اس سے ان جھیلوں کے بالکل نیچے واقع علاقوں میں موجود 2704 عمارتوں، 15 بڑے پلوں، سڑکوں کے حصوں اور ایک ہائیڈرو پاور پلانٹ کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس اسٹڈی کا حوالہ دیتے ہوئے جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو جموں و کشمیر اسمبلی کو بتایا کہ ان انتہائی حساس جھیلوں کی ریموٹ سنسنگ اور ہدف پر مبنی فیلڈ جائزہ کے ذریعہ لگاتار نگرانی کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مؤثر پیشگی انتباہی نظام بھی قائم کیے جانے چاہئیں۔

واضح رہے کہ عمر عبداللہ کے پاس ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ریلیف محکمہ کا قلمدان بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی جھیل کو ’انتہائی حساس‘ کے طور پر درجہ بند کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اس وقت غیر مستحکم ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اگر کچھ مخصوص حالات پیدا ہوتے ہیں تو دیگر جھیلوں کے مقابلے میں اس میں اچانک پھٹنے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔ یہ جانکاریاں وزیر اعلیٰ نے رکن اسمبلی تنویر صادق کے ایک سوال کے جواب میں پیش کی ہیں۔


حکومت کے مطابق برامسر، چرسر، نندکول، گنگابل اور بھاگسر انتہائی حساس جھیلوں کے زمرے میں آتی ہیں۔ ان سے متعلق حکومت نے کہا کہ ’’اسٹڈی میں آبی-ارضیاتی اشاریوں کے ایک مجموعہ کا استعمال کرتے ہوئے 155 برفانی جھیلوں کا تجزیہ کیا گیا، جس میں جھیل کے پھیلاؤ کی رفتار، ان کے بندوں کا استحکام اور آس پاس کے حالات شامل تھے۔‘‘ ان اشاروں کی بنیاد پر برامسر، چرسر، نندکول، گنگابل اور بھاگسر سمیت چند منتخب جھیلوں کو اس خطے کی دیگر جھیلوں کے مقابلے میں انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

کشمیر یونیورسٹی کے جیو انفارمیٹکس شعبہ کے محققین پر انحصار کے بارے میں بتاتے ہوئے حکومت نے کہا کہ ’’پہاڑی علاقوں کے لیے خاص طور پر تیار کیے گئے جی ایل او اف (گلیشیئر جھیل کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب) کے ابتدائی انتباہی نظام پر کام جاری ہے۔ ان کوششوں میں سیٹلائٹ پر مبنی نگرانی، زمینی سطح پر کی گئی جانچ، سنسر پر مبنی آبی و موسمی پیمائش اور حقیقی وقت کے مواصلاتی نظام کو آپس میں مربوط کرنا شامل ہے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔