سہارنپور: شیخ الہند میڈیکل کالج میں تنخواہیں نہ ملنے کے سبب ہڑتال

کالج میں کل 350 ملازمین کی تنخواہیں نہیں ملی، میڈیکل کالج میں تقریباً 50 ملازمین اقلیتی طبقہ سے وابستہ ہیں لوگوں کا کہنا ہے کہ اقلیتی طبقہ کے ملازمین ہونا بھی تنخواہیں نہ دینے کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

آس محمد کیف

ضلع سہارنپورکے سرساوا روڈ پر واقع شیخ الہند مولانا محمود حسن میڈیکل کالج ایک بار پھرسرخیوںمیں ہے ۔ اس بار میڈیکل کالج کے تمام ملازمین ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ہڑتال میں سینر ڈاکٹر شامل نہیں ہیں۔ جونیئر ڈاکٹر کام سے دستبردار ہو گئے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کی حکومت نے کاشی رام میڈیکل کالج کا نام تبدیل کر کے شیخ الہند کے نام رکھا گیا تھا اور اس کی افتتاحی تقریب میں ملائم سنگھ یادو اور اکھیلیش یادو کے ساتھ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے بھی شرکت کی تھی۔ اسی دن اکھلیش یادو نے زیر تعمیر مظفر نگر -سہارنپور فور لین ہائی وے کا نام بھی شیخ الہند مولانا محمود حسن کے نام پر رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک طرف زیر تعمیر شیخ الہند ہائی وے کا کام متاثر ہو گیا ہے تو دوسری طرف شیخ الہند میڈیکل کالج میں گزشتہ 6 مہینوں سے تنخواہیں نہیں مل سکی ہیں۔ جس کی وجہ سے یہاں کے سینکڑوں ملزازمین نے کام بند کر دیا ہے۔

سماجوادی پارٹی یوواجن سبھا کے ریاستی صدر فرہاد عالم گاڑا کہتے ہیں، ’’ یہ سیدھے طور پر بدلا لینے کے لئے کیا جا رہا ہے اور یہ سب کالج کے نام کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اگر میڈیکل کالج کا نام ویر ساورکر میڈیکل کالج ہوتا تو ایسا برتاؤ کبھی نہ کیا جاتا ۔‘‘

کالج کے وارڈ بوائے، اسٹاف نرس، ٹیکنیشین اور جونئر ڈاکٹر سب ہڑتال پر ہیں۔ مقامی شہری روِ ش احمد بتاتے ہیں کہ ’’ سینکڑوں ملازمین کالج کے گیٹ پر بیٹھ گئے اور انہوں نے کوئی کام نہیں کیا۔ دراصل یہ ملازمین معاہدے پر کام کرتے ہیں اور ایک پرائیویٹ کمپنی ان کی نگراں ہے۔ کمپنی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں اوپر سے پیسہ نہیں مل رہا ہے۔

قومی آواز
قومی آواز
شیخ الہند مولانا محمود حسن میڈیکل کالج میں ملازمین کا مظاہرہ

اتنی بڑی بات ہونے کے باوجود یہ خبر مقامی اخباروں سے ندارد ہے یا پھر تیسرے چوتھے صفحہ پر شائع ہوئی ہے۔ کوئی ملازم بھی اخبار میں اپنا نام نہیں چھپوانا چاہتا۔ ایک جونئر ڈاکٹر نے نام نہ شائع کی شرط پر کہا ’’ ایک کابینی وزیر یہاں کا اسٹاف تبدیل کرنے کی فراق میں ہے اس لئے وہ ہمارا استحصال کرا رہا ہے۔ ‘‘

سوال یہ ہے کہ اس میڈیکل کالج کی تنخواہیں آخر کیوں نہیں دی جا رہی ہے۔ چھ مہینوں کے دوران اس کالج کے سامنے سے دو بار وزیر اعلیٰ خود گزر چکے ہیں ظاہر ہے کالج انہوں نے بھی دیکھا ہوگا۔ محمد فیضان کا کہنا ہے کہ ’’ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جب یہاں سے گزرے ہوں گے تو ظاہری طور پر انہوں نے کالج کا نام بھی ضرور پڑھا ہوگا ۔‘‘

کالج میں کل 350 ملازمین ہیں جن کی تنخواہیں نہیں ملی ہیں ۔ یہاں 2 ہزار سے زائد مریض ہر روز دیکھے جاتے ہیں ۔ تنخواہیں ’سینک کلیان ‘ اور ’پرنسپل ‘ نامی کو پرائیویٹ گروپوں کی طرف سے واگزار کی جاتی ہیں ۔ خاص بات یہ ہے کلہ میڈیکل کالج میں تقریباً 50 ملازمین اقلیتی طبقہ سے وابستہ ہیں۔ محمد شاداب کا کہنا ہے کہ اقلیتی طبقہ کے ملازمین ہونا بھی تنخواہیں نہ دینے کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

محسن رانا کے مطابق ’’یہ لوگ کنٹریکٹ پر ہیں اور گزشتہ حکومت کے دوران انہیں نوکری ملی تھی اب حزب اقتدار کے رہنماؤں پر اپنے لوگوں کو ’ایڈجسٹ ‘ کرنے کا دباؤ ہے کا پھر مذہبی تفریق بھی اس سب کی وجہ ہو سکتی ہے۔‘‘

اپنی خبریں ارسال کرنے کے لیے ہمارے ای میل پتہ contact@qaumiawaz.com کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی ہمیں اپنے نیکمشوروں سے بھی نوازیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔