’سری کرشنا رپورٹ‘ جس میں بابری مسجد کی شہادت پر اصل بنیاد پیش کی گئی

رپورٹ میں 1949 میں مورتیاں رکھنا اور 1992 میں مسجد کی مسماری کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

ممبئی: ایودھیا میں 6 دسمبر 1992 کو تاریخی بابری مسجد کو شہید کردیا گیا، آج سپریم کورٹ نے 1949میں مسجد میں مورتیاں رکھے جانے اور مسجد کی شہادت کو غیر قانونی فعل قرار دیتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا ہے۔

واضح رہے کہ مسجد کی مسماری کے بعد ملک بھر میں تشدد پھوٹ پڑا اور اس نے ملک کے تجارتی مرکز ممبئی کو بھی اپنے لپیٹ میں لے لیا۔ ان فسادات کی تحقیقات کے لیے حکومت نے بمبئی ہائی کورٹ کے سٹنگ جج جسٹس بی این سری کرشنا کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا جنہوں نے ایک منصفانہ رپورٹ پیش کی، اس کمیشن کی کارروائی کی پہلے روز سے رپورٹنگ کرنے والے معروف صحافی جاوید جمال الدین نے کہا کہ جسٹس سری کرشنا نے اپنی رپورٹ میں بابری مسجد کی شہادت اور رام جنم بھومی کے لیے شروع کی جانے والی تحریک کو ہی بنیاد قرار دیا تھا، انہوں نے سپریم کورٹ کے ذریعہ 1949 میں بابری مسجد میں مورتیاں رکھنے اور مسجد کی شہادت کو غیرقانونی قرار دینے کو ایک تاریخی فیصلہ بتایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سری کرشنا کمیشن نے واضح کر دیا تھا کہ 1980 کے عشرہ میں رام مندر کی تحریک شروع کی گئی اورایک بار پھر ہندووادی (ہندوؤں کی فرقہ پرست جماعتوں، تنظیموں) نے ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ مجوزہ رام مندر کی تعمیر کرنے کی مہم شروع کردی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ بھگوان شری رام کی جائے پیدائش ہے۔ دوسری جانب ظاہر سی بات تھی کہ مسلمان ایک انچ زمین دینا نہیں چاہتے ہیں۔

جاوید جمال الدین نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق اس تنازعہ نے اس وقت سنگین رخ اختیار کرلیا، جب عدلیہ کی جانب سے مقدمہ میں کافی تاخیر ہوگئی اور سیاسی مفاد کے لیے اس معاملہ کو ایک نیا رخ 80 کی دہائی میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے دیا اور اس کے سربراہ ایل کے اڈوانی نے رام جنم بھومی۔ بابری مسجد تنازعہ پرعوامی(ہندوﺅں) بیداری پیدا کرنے کے لیے رتھ یاترا نکالی اور اس دوران جگہ جگہ چھوٹے بڑے پیمانے پر فسادات ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس سری کرشنا نے تاریخی حوالے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے برطانوی سامراج کو باہر نکالنے کے لیے ہندوﺅں اور مسلمانوں نے متحد ہوکر آپسی ملنساری کے ساتھ جدوجہد کی تھی۔ اس اتحاد واتفاق کو محمدعلی جناح کے ’’دوقومی نظریہ‘‘ نے تباہ وبرباد کر دیا جس کے نتیجہ میں سیاسی طور پر ملک کی تقسیم ہوگئی اور سرحد کے دونوں جانب لاکھوں معصوم اور بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا گیا۔ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ دیگر فرقے کی اکثریت اور اثر و رسوخ رکھنے والے علاقوں میں رہائش پذیر تھے۔

انہوں نے ملک کی آزادی اور اس ہندوستانی آئین کو تسلیم کرلیا تھا، جس نے اقلیتوں کو ان کے بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ رعایتیں بھی دی تھیں۔ ایک وقفہ کے ساتھ اقلیتی فرقہ کو دیئے جانے والے خصوصی اختیارات نے ان کی نفسیات پر گہرا اثر کرنا شروع کیا۔ ہندووں میں یہ خوف پایا جانے لگا کہ جلد ہی وہ اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے۔ اس سوچ نے صورت حال کو کافی بگاڑ دیا اور ”ہم اور وہ “ کی نفسیات پنپنے لگی۔ اس کا سیاسی فائدہ مفاد پرستوں نے اٹھایا اور ہندوﺅں کے ایک طبقہ نے متعدد مساجد کو آزاد کرانے کے لیے مہم شروع کردی، جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ مسلم دورحکومت میں انہیں مندر سے ہی مسجد میں تبدیل کردیا گیا تھا، اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جانے لگی تھی اور 1949سے پھر ایک بار ہندووادی (ہندوﺅں کی فرقہ پرست جماعتوں، تنظیموں) نے ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ مجوزہ رام مندر کی تعمیر کرنے کی مہم شروع کر دی۔

Published: 9 Nov 2019, 2:11 PM