فرانس، اسرائیل سمیت کئی ممالک میں جاسوسی معاملے کی تحقیقات ہو رہی ہے، تو مودی حکومت اس سے کیوں بھاگ رہی ہے؟ کھڑگے

ملکارجن کھڑگے نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر نامہ نگاروں کو بتایا کہ حکومت آمرانہ رویہ اختیار کر رہی ہے اور وہ کسی بھی مسئلے کو جمہوری طریقے سے حل کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

ملکارجن کھڑگے / ٹوئٹر
ملکارجن کھڑگے / ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: پیگاسس معاملہ پر حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان جمود کی صورت حال برقرار ہے۔ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس لگاتار ہنگامہ کی نذر ہو رہا ہے اور ابھی تک دونوں ایوانوں میں کوئی خاص کام نہیں ہوسکا۔ دریں اثنا، راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم مودی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسائل کو جمہوری طریقہ سے حل کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے حکومت سے کل جماعتی اجلاس طلب کرنے اور پیگاسس معاملہ کی جانچ کرنے کا مطالبہ کیا۔

ملکارجن کھڑگے نے منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر نامہ نگاروں کو بتایا کہ حکومت آمرانہ رویہ اختیار کر رہی ہے اور وہ کسی بھی مسئلے کو جمہوری طریقے سے حل کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب فرانس، اسرائیل جیسے بہت سے ممالک نے جاسوسی کے معاملے پر تحقیقات کا آغاز کیا ہے تو پھر مودی سرکار اس سے کیوں بھاگ رہی ہے۔


انہوں نے بتایا کہ حکومت عوام کی مشکلات کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی۔ اپوزیشن جماعتوں سے ہر مسئلے پر حکومت بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہے لیکن حکومت یکطرفہ طور سے عوام دشمن فیصلے کر رہی ہے جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ ہم نے کوشش بھی کی ہے کہ تمام جماعتوں کے لیڈران کو ساتھ لے کر ماحول تیار کیا جائے، ہم مل کر کوشش کریں گے۔ ہم بات چیت کے لئے تیار ہیں لیکن وہ (حکومت) سچائی سے دور ہیں۔‘‘

ملکارجن کھڑگے نے کہا، ’’ہمارا کہنا یہی ہے کہ تمام جماعتوں کو طلب کیجئے۔ مل کر بات کریں گے اور اگر کوئی اتفاق رائے بنتی ہے تو اس پر مل کر کام کریں گے۔ میں اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ ہم سبھی کو مل کر آگے بڑھنا چاہئے اور مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔