ہندوستانی ہونے کا حق مسلمانوں کے ہاتھ سے نہیں چھینا جانا چاہیے: ابو صالح شریف

ابو صالح شریف کا کہنا ہے کہ ’’ہماری کوششوں کے بعد کرناٹک میں 15 لاکھ ووٹروں کو ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا۔ جوکہ ہماری محنت کی وجہ سے ہی ممکن ہو پایا۔‘‘

بھاشا سنگھ

’’ملک میں مسلمانوں کی نہ صرف سیاسی نمائندگی گھٹی ہے بلکہ ان کے اندر جمہوری سیاسی عمل سے متعلق دلچسپی بھی کم ہوئی ہے۔ یہ کسی بھی جمہوریت کے لیے بحران کی گھنٹی ہے۔ ووٹر ہونا، ووٹر لسٹ میں نام ہونا ملک میں اپنی شہریت کی گارنٹی ہے۔‘‘ ایسا ماننا ہے ڈاکٹر ابو صالح شریف کا جنھوں نے ملک میں مسلمانوں میں پسماندگی کو لے کر تیار کی گئی سچر کمیٹی رپورٹ میں اہم کردار نبھایا تھا۔ ابو صالح شریف ماہر معیشت ہیں اور سنٹر فار ریسرچ اینڈ ڈیبیٹس ان ڈیولپمنٹ پالیسی کے چیئرمین ہیں۔ اس وقت وہ ووٹر لسٹ میں مسلمانوں سمیت بقیہ مذاہب کے ایسے لوگوں کا نام شامل کرنے کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جن کا نام یہاں سے غائب ہے۔ کرناٹک میں اسمبلی انتخابات سے پہلے انھوں نے یہ مہم چلائی تھی اور تقریباً 15 لاکھ لوگوں کے نام ووٹر لسٹ میں جڑوائے۔ اس وقت یہ عمل ملک کے کئی حصوں میں چل رہا ہے۔ اس بارے میں انھوں نے ’قومی آواز‘ کے لیے بھاشا سنگھ سے خاص بات چیت کی۔ پیش ہیں اس کے اہم اقتباسات:

ووٹر لسٹ میں مسلمانوں کے نام نہ ہونے کی بات کہاں سے آپ کے ذہن میں آئی؟

عام طور پر میں ملک میں گھومتا رہتا ہوں اور مسلم آبادی سے زیادہ ملتا ہوں۔ ان کے ساتھ رہتا ہوں، ان کی نبض جاننے، ان کے دل میں جو باتیں چل رہی ہیں انھیں سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ ان سب کے درمیان میں نے محسوس کیا کہ وہ ووٹ ڈالنے کے تئیں بہت زیادہ سرگرم نہیں ہیں۔ ان کے دماغ میں یہ بیٹھا ہوا ہے کہ اگر انھوں نے ووٹ بھی کیا تو ہوگا کیا۔ وہ سیاسی تبدیلی کے تئیں مایوس نظر آئے۔ پھر مجھے پتہ چلا کہ بہت سے لوگوں نے ووٹ تک نہیں ڈالا۔ یہاں تک کہ ان میں سے اکثر نے یہ بھی پتہ کرنے کی زحمت نہیں اٹھائی کہ ان کا نام ووٹر لسٹ میں ہے کہ نہیں۔ کئی لوگوں نے کہا کہ ان کے نام ہی ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہیں جب کہ وہ پہلے ووٹ ڈالا کرتے تھے۔ یہیں سے مجھے لگا یہ ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس کے لیے سخت قدم اٹھایا جانا چاہیے۔

لیکن یہ تو ایک عام عمل ہے۔ ووٹر لسٹ میں نام چیک کرنا، جڑوانا اور ٹھیک کرانا تو بہت عام ہے۔ آپ نے اپنی تحقیق میں کیا کچھ پتہ لگایا؟

ایسا ہمیں لگتا ہے کہ یہ سب آسان ہے اور سب کچھ ٹھیک ہو جانا چاہیے تھا۔ لیکن زمین پر یہ اتنا آسان نہیں۔ تقریباً 15 فیصد مسلم ووٹر فہرست سے باہر ہیں۔ میں نے سوچا کہ اس سلسلے میں کام کرنا ضروری ہے۔ میں نے اس بات پر فوکس کرنا شروع کیا کہ سرکاری منصوبوں کی جو ڈیلیوری ہے وہ مسلم آبادی تک کیسے اور کتنی پہنچ رہی ہے اور سیاسی منظرنامہ سے مسلمان کس طرح باہر ہو رہے ہیں۔ جمہوریت میں اگر اتنی بڑی آبادی کی شرکت نہیں ہے تو باعث فکر ہے۔ اس لیے جب کرناٹک انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہونا تھا ٹھیک اسی وقت ہم نے سوچا کہ زمینی تحقیق کی جائے۔ مئی میں انتخابات ہونے کی خبریں تھیں تو ہم نے مارچ میں اپنی سرگرمیاں شروع کیں۔ میں نے اپنے ایک ٹیکنیکل ماہر کو بلایا جو ڈاٹا ایکسٹریکٹ کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ انتخابی کمیشن کی ویب سائٹ سے ڈاٹا نکالا گیا اور سبھی ریاستی انتخابی کمیشن کی ویب سائٹ سے ووٹروں کی لسٹ بھی حاصل کی۔ پھر بوتھ لیول پر کام کیا گیا۔ چونکہ میں مسلم ووٹروں کو لے کر بہت فکرمند تھا لہٰذا ہم نے 5 کروڑ کل ووٹروں کا ڈاٹا بنایا اور اس میں سے مسلم ناموں کو الگ کیا۔ پھر یہ دیکھا کہ ایک گھر میں کتنے ووٹ ہیں۔ سنگل ووٹ والے گھروں کی تعداد مسلمانوں میں زیادہ تھی۔ کرناٹک میں ہم نے پایا کہ ایسے سنگل ووٹر مسلم گھر 30 سے 35 فیصد تھے جب کہ غیر مسلم طبقے میں 17-16 فیصد ایسے گھر تھے۔ یہ فرق بہت زیادہ تھا جس کی وجہ یہ ہے کہ سنگل ووٹر والے گھروں سے کچھ لوگوں کا نام ووٹر لسٹ میں شامل ہی نہیں تھا۔

اس کا موازنہ مردم شماری سے کرنا اور پھر ایک اوسط نکالنا، کیا ایسا پہلے کبھی ہندوستان میں کیا گیا؟

یہ کرنا ضروری ہے تاکہ اعداد و شمار کو ثابت کیا جا سکے۔ دونوں ہی سرکاری اعداد و شمار ہیں۔ ہم انھیں آمنے سامنے رکھ کر موازنہ اور تجزیہ کر رہے ہیں۔ مردم شماری میں ہر گھر میں رہنے والے بالغوں کی تعداد ہوتی ہے۔ ایسے میں جو سنگل ووٹر یعنی ایک ہی ووٹر والے گھروں کی تعداد مسلم آبادی میں نکل رہی ہے، وہ بہت زیادہ ہے۔راجستھان میں ایسے گھروں کی تعداد 2 سے 3 فیصد نکل رہی ہے لیکن ووٹر لسٹ میں یہ 30 سے 35 فیصد ہے۔ لہٰذا ہمارا ماننا ہے کہ ایسا پورے ملک میں ہو رہا ہے۔ ووٹر لسٹ سے ہندوؤں اور خصوصاً دلتوں و قبائلیوں کے نام بھی غائب ہیں لیکن مسلمانوں کے نام سب سے زیادہ غائب ہیں۔

کرناٹک کے بعد اب کیا ارادہ ہے؟

مسلمانوں کے نام فہرست سے غائب ہیں، یہ ہمیں کرناٹک کی 240 اسمبلی سیٹوں کا جائزہ لینے سے پتہ چلا۔ اب ہم راجستھان میں گھروں میں جا رہے ہیں۔ یہاں ایک نئی بات پتہ چلی ہے کہ ایک ہی گھر سے ووٹروں کو الگ الگ بوتھ کی ووٹر لسٹ میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ گھر میں تین لوگ ہیں تو ایک آدمی ایک بوتھ میں لسٹ میں ہے اور باقی دو کا کہیں دور کے بوتھ والی لسٹ میں نام ڈال دیا گیا ہے۔ راجستھان کے ہوا محل اسمبلی حلقہ میں ہم شروع میں 184 گھروں میں گئے۔ ان میں سے 87 ایسے بالغ اشخاص ملے جو قانونی طور پر ووٹ دینے لائق تھے لیکن ان کے نام فہرست سے باہر تھے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ مسلم اور دلت ہیں۔

آپ کی اس کوشش کا کیا اثر ہوا؟

ہمارے کام کا مثبت اثر دیکھنے کو ملا ہے۔ انتخابی کمیشن نے ایک اسپیشل ڈرائیو چلایا ہے۔ کرناٹک میں ہمارے ریسرچ کے بعد انھوں نے 15 لاکھ ووٹروں کو ووٹر لسٹ میں شامل کیا۔ یہ ہماری محنت کی وجہ سے ہی ممکن ہو پایا۔ انتخابی کمیشن نے ہمارے اعداد و شمار کا نوٹس لیتے ہوئے ووٹر لسٹ میں کئی محروم لوگوں کو شامل کیا۔ ان میں سے 65 فیصد غیر مسلم ووٹر شامل ہوئے اور 35 فیصد مسلم۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مہم ہم نے مسلمانوں کے لیے شروع کیا تھا لیکن اس کا فائدہ سب کو ہوا۔

آگے کی پالیسی کیا ہے؟

اب ہم 2019 انتخابات سے پہلے یہ مہم پورے ملک میں چلانا چاہتے ہیں۔ یہ ہمارا مشن ہے۔ ابھی راجستھان میں کام چل رہا ہے۔ ہوا محل میں ہو گیا تو پھر اس کے بعد دوسری جگہ کرنا ہے۔ ہمیں ہر جگہ بہت زیادہ لوگ چھوٹے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں جنھیں ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

آپ کی نظر میں اس پورے معاملے کا سیاسی پیغام کیا ہے؟

دراصل ووٹر لسٹ میں نام نہ ہونے سے مسلمانوں سمیت حاشیہ پر پڑے کئی لوگوں کا سیاسی مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ ابھی لوگ بول رہے ہیں کہ ووٹر لسٹ سے مسلمانوں کا نام نکال دیں گے، تو پھر وہ ملک کے شہری ہی نہیں رہیں گے۔ ان کا ووٹنگ کا حق ختم ہو جائے گا۔ آپ اس بات کو سمجھئے کہ کس طرح سے مسلمانوں کے ذہن کو دوئم درجے پر دھکیلا جا رہا ہے۔ شہریت کے لیے بنیادی چیز ووٹر کارڈ ہے، آدھار کارڈ نہیں۔ سب کے پاس پین کارڈ نہیں ہوتا اور پاسپورٹ بھی سب کے پاس نہیں ہوتا۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مسلم آبادی بہت بڑے جوکھم کے دور میں ہے۔

خوف کا ماحول مسلمانوں میں بڑھ رہا ہے اور اس تعلق سے قوم میں بہت فکر ہے؟

جی، بالکل درست۔ دراصل ہم اس ملک کو بچانا چاہتے ہیں۔ یہ جو بڑے بڑے وزیر اور لیڈر مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے ہیں اور ’بھارت ماتا‘ کا نعرہ لگاتے ہیں، انھیں سمجھنا چاہیے کہ بھارت ہماری بھی ماں ہے۔ انھیں ایسا نہیں سوچنا چاہیے کہ ان کے پاس نمبر ہے تو وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں، سب کو خاموش کرا سکتے ہیں، بے دخل کر سکتے ہیں۔ یہ مناسب نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کے منھ پر ٹیپ لگانے کی ضرورت ہے۔ ان کا منھ بند کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں میں خوف بڑھ گیا ہے، لیکن یہ خوف کب تک رہے گا! ڈرنے کی حد ہوتی ہے، اس کے بعد ملیٹنسی ہونے کا خوف بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے ہم ووٹر لسٹ میں مسلمانوں کے نام کی واپسی چاہتے ہیں۔ ہندوستانی شہری ہونے کا حق ان کے ہاتھ سے نہیں چھننا چاہیے۔