جنرل بپن راوت کے ہیلی کاپٹر حادثہ کی اصل وجہ آئی سامنے، کسی سازش سے انکار

ہیلی کاپٹر حادثے کی تحقیقات کے لیے قائم کورٹ آف انکوائری نے بدھ کے روز مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو پیش کی گئی رپورٹ میں کئی باتوں کا انکشاف کیا۔

ہیلی کاپٹر حادثہ، فائل تصویر یو این آئی
ہیلی کاپٹر حادثہ، فائل تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کا ہیلی کاپٹر گزشتہ ماہ گھنے بادلوں میں پھنسے کی وجہ سے اچانک گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس میں کسی تکنیکی خرابی یا تخریب کاری کی سازش نہیں تھی۔ اس حادثے کی تحقیقات کے لیے قائم کورٹ آف انکوائری نے بدھ کو وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو پیش کی گئی رپورٹ میں یہ بات کہی ہے۔ 8 دسمبر کو کنور کے نزدیک اس حادثے میں جنرل راوت، ان کی اہلیہ اور 12 دیگر فوجی اہلکاروں کی موت ہوگئی تھی۔

ذرائع کے مطابق حادثے کی تحقیقات کے لیے تینوں سروسز کے افسران کی مشترکہ ٹیم نے رپورٹ میں حادثے کی وجوہات کے ساتھ ساتھ وی آئی پی کے ہیلی کاپٹر سفر کے حوالے سے بھی اہم سفارشات بھی دی ہیں۔ ائر مارشل مانویندر سنگھ کی رہنمائی میں ٹیم نے وزیر دفاع کو حادثے کی وجہ کا بلیو پرنٹ بھی پیش کیا۔ اس موقع پر فضائیہ کے سربراہ وویک رام چودھری اور سیکرٹری دفاع اجے کمار بھی موجود تھے۔


ذرائع نے بتایا ہے کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر کے اچانک گھنے بادلوں میں پھنسنے کی وجہ سے ایک خاص صورتحال 'کنٹرولڈ فلائٹ انٹو ٹیرین' پیدا ہوئی جس میں گھنے بادلوں کی وجہ سے پائلٹ کو نظر نہیں آتا اور صورتحال ان کے کنٹرول سے باہر ہوجاتی ہے جس سے ہیلی کاپٹر زمین، پہاڑ یا کسی اور چیز سے ٹکرا جاتا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں کسی تکنیکی خرابی یا ہیلی کاپٹر کے سبوتاژ کرنے کی سازش کو مسترد کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے وی آئی پی کے سفر کے سلسلے میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) پر نظرثانی کی بھی سفارش کی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے ایک ماہ سے بھی کم وقت میں رپورٹ پیش کرنے سے قبل تمام پہلوؤں پر شواہد اور بلیک باکس کے ساتھ ساتھ تمام حالات کا مطالعہ کیا ہے۔ تحقیقات میں پائلٹ سے جلد بازی میں کسی قسم کے رابطے کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔


واضح رہے کہ اس ہیلی کاپٹر کو خود اڑانے والے ونگ کمانڈر پرتھوی سنگھ چوہان اس حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے اور انہیں خصوصی حالات میں بھی پرواز کرنے کا کافی تجربہ تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔