’لوک سبھا میں ریاستوں کا جو تناسب ہے، حد بندی کے بعد سیٹیں اسی تناسب میں بڑھائی جائیں‘، کانگریس کا مودی حکومت سے مطالبہ

راجندر پال گوتم نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’2011 کی مردم شماری میں ایس سی/ایس ٹی طبقہ کا معاشرتی-اقتصادی سروے ہوا تھا، جسے 2014 میں آئی بی جے پی حکومت نے اب تک ریلیز نہیں کیا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>راجندر پال گوتم (ویڈیو گریب)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مودی حکومت نے 16 سے 18 اپریل تک پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے۔ اس دوران ایوان میں 3 اہم بل پیش کیے جائیں گے، جن میں خواتین ریزرویشن، لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ اور حد بندی سے متعلق بل شامل ہیں۔ اس قدم پر کانگریس نے مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ایس سی ڈپارٹمنٹ کے قومی صدر راجندر پال گوتم نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’2011 کی مردم شماری میں ایس سی/ایس ٹی طبقہ کا معاشرتی-اقتصادی سروے ہوا تھا، جسے 2014 میں آئی بی جے پی حکومت نے اب تک ریلیز نہیں کیا ہے۔ اس مردم شماری میں پسماندہ طبقات کی گنتی ہونی چاہیے اور تازہ ترین سروے کے مطابق ہی حد بندی اور او بی سی، ایس سی/ایس ٹی طبقہ کی خواتین کی حصہ داری کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔‘‘

کانگریس لیڈر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ ’’ہماری ایک تشویش یہ بھی ہے کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں لوک سبھا کی نشستوں کا جو تناسب ابھی ہے، یہ آگے بھی برقرار رہنا چاہیے۔ اگر آبادی کے حساب سے اسے بنایا گیا تو جنوبی ہندوستان کی ریاستوں میں نشستیں کم ہو جائیں گی اور شمالی ہندوستان میں نشستیں بہت زیادہ ہو جائیں گی۔ ایسے میں ملک میں اعتماد کا فقدن ہو جائے گا اور جنوبی ہندوستان کی ریاستوں کے لوگوں کی نمائندگی کم ہو جائے گی، جس کے دور رس نتائج بہت منفی ہو سکتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ آج لوک سبھا میں ملک کی ریاستوں کا جو تناسب ہے، حد بندی کے بعد نشستیں اسی تناسب میں بڑھائی جائیں۔‘‘


کانگریس لیڈر انجنیئر چترا باتھم کہار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو حکومت ملک کے او بی سی طبقہ کے دَم پر 2014 میں اقتدار میں آئی، اسی نے ہمارے حقوق کو روندا ہے۔ ہر موقع پر مودی حکومت کے ذریعہ او بی سی طبقہ کا حق مارنے کا کام کیا گیا ہے۔ اگر کل پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل پیش ہوا اور اس میں او بی سی طبقہ کی خواتین کے ریزرویشن کی بات نہیں ہوئی تو ہم ستیہ گرہ کے ذریعہ ایک بڑی تحریک شروع کریں گے۔‘‘

کانگریس کی خاتون لیڈر ڈاکٹر سبھاشنی شرد یادو نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’مودی حکومت ذات پر مبنی مردم شماری نہیں کروانا چاہتی۔ ایسا میں اس لیے کہہ رہی ہوں، کیونکہ جب حکومت نے سروے کا فارم کا نکالا تھا تو اس میں او بی سی کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ بی جے پی حکومت صرف فریب کر کے لوگوں کو گمراہ کر رہی ہے۔ ملک کی سچائی یہی ہے کہ آج بھی 90 فیصد لوگوں کو نمائندگی نہیں مل رہی ہے اور وہ جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ خواتین ریزرویشن میں کوٹے کے اندر کوٹہ ہو اور او بی سی، ایس سی-ایس ٹی خواتین کو نمائندگی ملے۔‘‘ 

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔