ریلوے لائن کے قریب موجود جھگیوں کو ہٹانے کا عمل شروع، کانگریس کا بی جے پی اور عآپ پر حملہ، ریلوے کو لکھا خط

کانگریس لیڈر پریرنا سنگھ نے کہا کہ جھگیوں کو ہٹانے سے پہلے لوگوں کے رہنے کے لیے متبادل انتظام کیا جانا چاہیے لیکن بی جے پی اور عآپ نے اپنا غریب مخالف چہرہ ظاہر کر دیا ہے۔

کانگریس لیڈر پریرنا سنگھ
کانگریس لیڈر پریرنا سنگھ
user

قومی آوازبیورو

’’دہلی میں ریلوے لائن کے پاس بسی جھگیوں کو ہٹانے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ مرکز کی بی جے پی اور دہلی کی عآپ حکومت کی شہ پر یہ غریب مخالف کارروائی کی جا رہی ہے۔ کانگریس اس کارروائی کی ہر سطح پر مخالفت کرے گی۔‘‘ یہ بیان شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن میں کانگریس کی لیڈر اور سینئر کونسلر پریرنا سنگھ نے دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہلی میں ریلوے لائن کے پاس بسی جھگی بستیوں کو ہٹانے کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔ جھگیوں میں ریلوے انتظامیہ کی جانب سے جھگیاں ہٹائے جانے سے متعلق نوٹس چسپاں کیے جا رہے ہیں۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ کارروائی مرکز کی بی جے پی اور دہلی کی عآپ حکومت کے اشارے پر ہو رہی ہے۔

ریلوے لائن کے قریب موجود جھگیوں کو ہٹانے کا عمل شروع، کانگریس کا بی جے پی اور عآپ پر حملہ، ریلوے کو لکھا خط

پریرنا سنگھ کا کہنا ہے کہ دہلی میں گزشتہ 40-30 سالوں سے جھگیوں میں مقیم لوگوں کو اچانک ہٹانا ٹھیک نہیں ہے۔ جھگیوں کو ہٹانے سے پہلے لوگوں کو رہنے کے لیے متبادل انتظام کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائی حکومت کی رضامندی کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ اس کارروائی سے مرکز کی بی جے پی اور دہلی کی عآپ حکومت کا غریب مخالف چہرہ ظاہر ہو گیا ہے۔


جھگیاں ہٹائے جانے سے متعلق کارروائی کا پتہ چلنے پر غریب جھگی باشندوں کے حق میں آج منگل کو پریرنا سنگھ نے شمالی ریلوے کے دہلی ریجنل منیجر (ڈی آر ایم) سے ملاقات کی اور خط سونپا۔ خط میں پریرنا سنگھ نے جھگی باشندوں کے مشکل حالات سے مطلع کراتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جھگیوں کو ہٹانے سے پہلے ان میں رہنے والے لوگوں کے لیے متبادل انتظام کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ جھگیوں میں غریب لوگ رہتے ہیں جو گھروں میں صاف صفائی و محنت مزدوری کر اپنی و کنبہ کی پرورش کرتے ہیں۔ پریرنا سنگھ نے یہ بھی کہا کہ جھگی بستیوں میں لوگ 40-30 سالوں سے مقیم ہیں، ان لوگوں کو اچانک ہٹانا غیر اخلاقی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جھگی باشندوں کو بغیر متبادل جگہ مہیا کرائے ہٹایا گیا تو کانگریس اس کی سخت مخالفت کرے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔