تھلاپتی وجے کی فلم ’جن نایگن‘ کی مشکلات میں مزید اضافہ، سپریم کورٹ نے مداخلت سے انکار کے ساتھ ہائی کورٹ کو دیا الٹی میٹم
پروڈیوسر کی طرف سے سپریم کورٹ میں کہا گیا کہ ’’ہم تمام ججوں سے اپیل کرتے ہیں کہ معاملہ کو ایک دو روز میں نمٹا دیں۔ میں نے سب کچھ کھو دیا ہے، میں برباد ہو گیا ہوں۔‘‘

تھلاپتی وجے کی فلم ’جن نایگن‘ کی ریلیز سے متعلق جمعرات (15 جنوری) کو فیصلہ آنا تھا۔ لیکن سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ پروڈیوسر کو ہائی کورٹ جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب ہائی کورٹ ہی وجے کی فلم کے متعلق حتمی فیصلہ سنائے گی۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے مدراس ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ کو اس معاملے میں 20 جنوری تک فیصلہ دینے کو کہا ہے۔
کے وی این پروڈکشن کی طرف سے سپریم کورٹ میں سینئر وکیل مُکل روہتگی نے دلیل پیش کی۔ انہوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہائی کورٹ کو 20 جنوری سے قبل معاملے کے متعلق فیصلہ سنانے کو کہیں۔ کیونکہ فلم کی تاخیر کی وجہ سے پروڈیوسر نے سب کچھ کھو دیا ہے، وہ برباد ہو گئے ہیں۔ پروڈیوسر کی طرف سے سپریم کورٹ میں کہا گیا کہ ’’ہم تمام ججوں سے اپیل کرتے ہیں کہ معاملہ کو ایک دو روز میں نمٹا دیں۔ میں نے سب کچھ کھو دیا ہے، میں برباد ہو گیا ہوں۔‘‘
سپریم کورٹ کے فیصلہ سنانے کے بعد سب کی نظریں ہائی کورٹ پر مرکوز ہیں۔ ’جن نایگن‘ ساؤتھ انڈسٹری کے سپر اسٹار تھلاپتی وجے کی آخری فلم ہے۔ سیاست میں داخل ہونے سے قبل یہ ان کا آخری پروجیکٹ ہے۔ مداح اس فلم کے تعلق سے کافی پرجوش تھے، لیکن کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کے سرٹیفیکیشن کے متعلق تنازعہ اتنا لمبا چلے گا۔ واضح رہے کہ سنسر بورڈ کے ایک ممبر نے فلم کے کچھ حصوں پر اعتراض کیا ہے۔ وجے کی یہ فلم 9 جنوری کو ریلیز ہونی تھی، فلم کی ایڈوانس بکنگ شروع ہو چکی تھی۔ اس کی ریلیز میں تاخیر کی وجہ سے ڈسٹرییبوٹرس کو اچھا خاصا نقصان ہوا ہے۔ سنسر بورڈ اور کورٹ کے درمیان پھنسنے کے بعد وجے کی فلم اٹک گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ’جن نایگن‘ کے بنانے والوں کو بھی کروڑوں کا نقصان ہوا ہے۔ شائقین کو پہلے امید تھی کہ پونگل تک کچھ حل نکل جائے گا۔ سنسر بورڈ کے ساتھ جاری تنازعہ ختم ہو جائے گا۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہو پایا ہے۔ ’جن نایگن‘ تھلاپتی وجے کی ’پَین انڈیا‘ فلم ہے، اس میں اداکارہ پوجا ہیگڑے اور اداکار بابی دیول بھی اہم رول میں نظر آئیں گے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔