’وزیر اعظم نے ایک سرکاری خطاب کو سیاسی تقریر میں تبدیل کر دیا‘، ملک کے نام پی ایم مودی کے خطاب پر کھڑگے کا تلخ تبصرہ

کانگریس صدر کھڑگے نے الزام لگایا کہ انتخابی ضابطۂ اخلاق نافذ ہونے کے باوجود وزیر اعظم نے سرکاری مشینری کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن، خصوصاً کانگریس کو نشانہ بنایا، جو جمہوریت اور آئین کے خلاف ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ملکارجن کھڑگے / ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

وزیر اعظم نریندر مودی کے آج رات 8:30 بجے قوم سے خطاب کے بعد سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اس خطاب پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک طویل پوسٹ جاری کی، جس میں انہوں نے وزیر اعظم پر شدید تنقید کی اور کئی سنگین الزامات عائد کیے۔ کھڑگے نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’گزشتہ 12 برسوں میں حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے وزیر اعظم نے ایک سرکاری خطاب کو سیاسی تقریر میں تبدیل کر دیا، جس میں الزامات تراشی اور جھوٹے دعوے کیے گئے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابی ضابطۂ اخلاق نافذ ہونے کے باوجود وزیر اعظم نے سرکاری مشینری کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن، خصوصاً کانگریس کو نشانہ بنایا، جو جمہوریت اور آئین کے خلاف ہے۔

کانگریس صدر نے کہا کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں کانگریس کا ذکر 59 بار کیا، جبکہ خواتین کا ذکر بہت کم بار کیا، جو ان کی ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی کے لیے خواتین نہیں بلکہ کانگریس ہی اصل موضوع ہے کیونکہ کانگریس ’تاریخ کے صحیح رخ‘ پر کھڑی ہے۔ کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ کانگریس ہمیشہ خواتین کے ریزرویشن کی حامی رہی ہے اور 2010 میں راجیہ سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پاس کرایا تھا تاکہ وہ ختم نہ ہو جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی اسے لوک سبھا میں پاس نہیں کرا سکی، جبکہ 2023 میں پیش کیے گئے بل کی بھی کانگریس نے حمایت کی۔ ان کے مطابق اس بل کو 16 اپریل کو نوٹیفائی کیا گیا، جس سے بی جے پی کی سنجیدگی پر سوال اٹھتا ہے، کیونکہ اسے نافذ کرنے میں 3 سال لگ گئے۔


کھڑگے نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ ’قوم سے جھوٹ بولنا بند کریں‘ اور فوری طور پر موجودہ 543 لوک سبھا نشستوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈی لمیٹیشن سے متعلق آئینی ترمیمی بلوں کو خواتین ریزرویشن بل کے ساتھ ملا کر پیش کرنا گمراہ کن ہے، کیونکہ یہ محض انتخابی نقشہ تبدیل کرنے کی کوشش ہے، جس سے بی جے پی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

اپنے بیان میں کھڑگے نے کانگریس کی تاریخی خدمات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پارٹی نے سبز انقلاب، سفید انقلاب، خلائی پروگرام، ایٹمی طاقت، 1991 کی معاشی اصلاحات اور آدھار جیسے منصوبوں کے ذریعے ملک کو مضبوط کیا۔ انہوں نے آر ٹی آئی، آر ٹی ای، فوڈ سیکورٹی ایکٹ اور منریگا جیسے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب کانگریس کی دین ہیں۔ خواتین کے حقوق کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ہندو کوڈ بل، کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی کے خلاف قانون، گھریلو تشدد کے خلاف قانون اور جسٹس ورما کمیٹی کی سفارشات کے بعد فوجداری قوانین میں اصلاحات جیسے اہم اقدامات کیے، جبکہ بی جے پی نے خواتین مخالف رویہ اختیار کیا۔


کھڑگے نے ہاتھرس، اناؤ اور ہریانہ کی خواتین پہلوانوں کے معاملات کا ذکر بھی اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی ان واقعات پر جواب دینے میں ناکام رہی ہے۔ کانگریس صدر نے بلقیس بانو کیس کا بھی حوالہ دیا اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مجرموں کو رہا کیا گیا اور ان کا استقبال کیا گیا۔ ان کے مطابق این سی آر بی کے اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں خواتین کے خلاف جرائم زیادہ ہیں۔

ملکارجن کھڑگے کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی بحران، مہنگائی، گرتی ہوئی معیشت اور کمزور ہوتی کرنسی کے باوجود وزیر اعظم کے پاس قوم کو دینے کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں تھا اور انہوں نے صرف ایک سیاسی تقریر کی۔ اپنے بیان کے آخر میں کھڑگے نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس ملک کو تقسیم کرنے کی سیاست کرتے ہیں اور ان کا نظریہ آئین کے بجائے منوسمرتی پر مبنی ہے، جو مساوات کے بجائے تفریق کو فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ایسے حالات میں حکومت کو اپنی پالیسیوں پر غور کرنا چاہیے اور عوام کو درپیش مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔