بنگال کی عوام کو بنیادی ضروریات کے لیے بھی جدوجہد کرنی پڑ رہی، اس کی ذمہ دار ٹی ایم سی-بی جے پی: کانگریس
اکھلیش پرساد سنگھ نے کہا کہ بی جے پی اور ٹی ایم سی دونوں اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کے لیے ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں، جبکہ اس سیاسی کشمکش کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ اکھلیش پرساد سنگھ نے کولکاتا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مغربی بنگال کی موجودہ سیاسی و سماجی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے ریاست میں مشکل حالات کے لیے برسر اقتدار ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے ساتھ ساتھ مرکز کی مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور دونوں ہی پارٹیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
اکھلیش پرساد نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں گزشتہ تقریباً 15 برسوں سے ٹی ایم سی کی حکومت قائم ہے، اور اس سے قبل یہاں سی پی ایم کی حکومت تھی۔ اس طویل عرصے کے دوران ریاست کی عوام کا معیار زندگی بہتر ہونے کی جگہ مسلسل گرتا گیا ہے۔ بے روزگاری، نقل مکانی اور مہنگائی عروج پر ہیں، جس کی وجہ سے عام آدمی شدید مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
کانگریس لیڈر نے الزام عائد کیا کہ ٹی ایم سی کی بدانتظامی اور بی جے پی کی مبینہ نظراندازی کے سبب ریاستی عوام خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ آج مغربی بنگال کے لوگوں کو اپنی بنیادی ضروریات کے لیے بھی جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔
مرکز کی مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اکھلیش پرساد سنگھ نے کہا کہ دہلی میں بیٹھی بی جے پی قیادت والی حکومت مغربی بنگال کے ساتھ سوتیلا سلوک کر رہی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ مرکز کی جانب سے ریاست کی ترقی کے لیے مختص فنڈز یا تو روک لیے جاتے ہیں یا پھر تاخیر سے جاری کیے جاتے ہیں، جس سے ترقیاتی کام متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی بی جے پی کے رہنما مغربی بنگال کا دورہ کرتے ہیں تو وہ یہاں کی تہذیب، ثقافت اور زبان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور شناخت کی سیاست کو فروغ دے کر سماج میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ بی جے پی اور ٹی ایم سی دونوں اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کے لیے ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں، جبکہ اس سیاسی کشمکش کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں پارٹیوں نے ریاست کی عوام کو مایوس کرنے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مغربی بنگال کی عوام کو بہتر حکمرانی، روزگار کے مواقع اور بنیادی سہولیات کی فوری ضرورت ہے، اور اس کے لیے سنجیدہ و مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔