دبئی میں پھنسے ہندوستانی مزدوروں کی اپیل کا اثر، ’قومی انسانی حقوق کمیشن‘ نے جھارکھنڈ حکومت سے طلب کی رپورٹ
گزشتہ دنوں دبئی میں پھنسے جھارکھنڈ کے 14 مزدوروں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل کر ہندوستانی حکومت سے مدد کا مطالبہ کیا تھا۔ خبر میڈیا میں آنے کے بعد این ایچ آر سی نے اس معاملے کا از خو نوٹس لیا ہے۔

دبئی میں تقریباً 3 ماہ سے پھنسے جھارکھنڈ کے 14 مزدوروں کے متعلق قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے ریاستی حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے۔ دراصل گزشتہ دنوں دبئی میں پھنسے ان 14 مزدوروں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل کر ہندوستانی حکومت سے مدد کا مطالبہ کیا تھا۔ خبر میڈیا میں آنے کے بعد این ایچ آر سی نے اس معاملے کا از خو نوٹس لیا ہے۔
واضح رہے کہ جھارکھنڈ کے بکارو، گریڈیہ اور ہزاری باغ کے رہنے والے 14 مزدور تقریباً 3 ماہ قبل کام کے سلسلے میں دبئی گئے تھے۔ مزدوروں کا الزام ہے کہ ’ای ایم سی‘ نامی کمپنی نے انہیں ٹرانسمیشن لائن میں کام دلایا، لیکن تقریباً 3 ماہ سے مزدوری نہیں دی۔ ساتھ ہی ان کا پاسپورٹ بھی چھین لیا۔ مزدوروں کا الزام ہے کہ اوپر سے جبراً اوور ٹائم کرایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے رہنے کھانے کی بنیادی ضرورتیں بھی پوری نہیں ہو پا رہی ہے۔ اس کے بعد مزدوروں نے ویڈیو بنا کر اسے سوشل میڈیا پر وائرل کرتے ہوئے مرکزی اور ریاستی حکومت سے مدد کا مطالبہ کیا تھا۔
قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) کے مطابق دبئی میں ٹرانسمیشن لائن کے کام سے وابستہ ای ایم سی نامی کمپنی نے ان مزدوروں کو ملازمت پر رکھا تھا اور ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے تاکہ وہ ہندوستان واپس نہ جا سکیں۔ ساتھ ہی الزام ہے کہ انہیں مزدوری بھی نہیں دی جا رہی ہے۔ این ایچ آر سی نے کہا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا معاملہ بنتا ہے۔ کمیشن نے اس پورے معاملے پر جھارکھنڈ حکومت کے چیف سکریٹری اور اسٹیٹ مائیگرنٹ ورکرز کنٹرول روم (ایم ڈبلیو سی آر) کے سربراہ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ کمیشن نے دونوں حکام کو 2 ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک پھنسے ہوئے مزدور نے فون پر بتایا کہ کمپنی ہندوستان سے دبئی لانے کے لیے خریدے گئے ہوائی ٹکٹ کا خرچ وصول کرنے کے نام پر تنخواہ سے بھاری کٹوتی کی۔ رہائش کا خرچ بھی مزدوروں سے لیا جا رہا ہے۔ حالات اس قدر خراب ہیں کہ کھانے کے لیے بھی پیسے نہیں بچے ہیں۔ مزدوروں نے جھارکھنڈ حکومت سے بحفاظت واپسی کی اپیل کی ہے۔
قابل ذکرہے کہ مذکورہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خلیج ممالک میں کام کر رہے ہندوستانی مزدوروں کی صورتحال اور پاسپورٹ کی ضبطی، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور بندھوا مزدوری جیسے حالات کے حوالے سے پہلے بھی کئی بار سوال اٹھتے رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی خلیجی ممالک میں کام دلانے کے نام پر بھرتی ایجنسیوں اور کمپنیوں کی جانب سے استحصال کے معاملات سامنے آ چکے ہیں۔ حکومت ایسے معاملات میں کئی مرتبہ مزدوروں کو خلیجی ممالک سے واپس بھی لا چکی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔