مودی حکومت ٹرمپ کے آگے جھک گئی، 1971 میں اندرا نے کرارا جواب دیا تھا: کانگریس

کانگریس نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد مودی حکومت دباؤ میں آ گئی اور ضروری ادویات برآمد کرنے کا فیصلہ لے لیا، اس واقعہ نے ہندوستان کی کمزور شبیہ کو پیش کیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کورونا وائرس کے بحران کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان نے ہندوستان کی سیاست میں بھونچال لا دیا ہے۔ ٹرمپ نے حال ہی میں دھمکی آمیز بیان دیا تھا کہ ہندوستان امریکہ کو ملیریا کی دوا (ہائیڈرو آکسیروکلروئن) مہیا کرے ورنہ امریکہ اس کا جواب دے گا۔ اس بیان کے بعد کانگریس سمیت حزب اختلاف کی طرف سے حکومت کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔

اسی سلسلہ میں بدھ کے روز کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے امریکہ کے دباؤ میں فوری طور پر ادویات کی برآمدگی پر وعائد پابندی کو ختم کر دیا، جس سے ملک کی کمزور شبیہ ظاہر ہوتی ہے۔

پون کھیڑا نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب بحران کا وقت آتا ہے تو دوست کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ آج پوری دنیا ایک امتحان سے گزر رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجے میں بات کر کے ہندوستان سے ہائیڈروکسی کلوروکوئن کا مطالبہ کیا اور ہم نے فوری طور پر برآمدگی پر عائد پابندی کو ہٹا لیا۔ اس سے ملک کے 130 کروڑ شہریوں کی بے عزتی ہوئی ہے۔‘‘

پون کھیڑا نے مزید کہا کہ پابندی ہٹانے کے فیصلہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کا ’سربراہ‘ خوفزدہ ہے، تو ایسے میں ملک کے 130 کروڑ شہریوں کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی؟

انہوں نے کہا کہ ’’جب 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگ ہو رہی تھی تو اس وقت برطانیہ اور امریکہ نے ہندوستان کو آنکھیں دکھانے کی کوشش کی تھی لیکن اندرا گاندھی نے ان دونوں ممالک کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان پہلے اپنے قومی مفاد کو دیکھے گا اور کوئی مداخلت کرنے کی جرأت نہ کرے۔‘‘

پون کھیڑا نے کہا ’’ہم جس روایت کے حامل لوگ ہیں، کم از کم اس تاریخ کو تو یاد رکھنا چاہئے۔ اب حالات وہ ہیں کہ جب ہمیں تیل خریدنا ہوتا ہے تو بھی ہم خوفزدہ ہو کر امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں اور اس کے بعد ہم فیصلہ کرتے ہیں۔‘‘

کانگریس ترجمان نے کہا کہ خارجہ پالیسی غیر سیاسی ہوتی ہے اور کوئی حکومت کسی بھی پارٹی کی ہم خارجہ پالیسی میں ہندوستانی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن اگر ہم خوف کے سبب کوئی فیصلہ لیتے ہیں تو اس کا پیغام ٹھیک نہیں جاتا۔ ملک کے 130 کروڑ عوام کی توہین ہوتی ہے تو آنے والی دہائیوں تک غلط مثال قائم ہوتی ہے۔