نفرت کی زندگی زیادہ لمبی نہیں، کیونکہ ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘

گروگرام کے ’فٹ پرنٹس‘ پلے اسکور نے عید سے پہلے بچوں کو ہندوستان کے تمام مذہبی رنگوں سے واقف کرانے کے لئے اسکول میں عید جیسا ماحول بنایا، اس عمل کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

عمران خان

’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ‘یہ صرف شعر کا ایک مصرعہ نہیں ہے بلکہ مستند حقیقت ہے۔ اس ملک میں نفرت جب جب سر اٹھائے گی تب تب اس کو جواب دینے کے لئے اس سارے جہاں سے اچھے ہندوستان میں بہت سے لوگ اپنا کشادہ سینا کھول کر سامنے آ ئیں گے ۔ ان بہت سارے لوگوں میں چند لوگوں کا ایک گروپ ہے جس نے’ فٹ پرنٹس ‘نام سے ایک تعلیم کارواں چلایا ہوا ہے ۔ یہ سوال ذہنوں میں آنا لازمی ہے کہ نفرت سے لڑائی کا اس تعلیمی کارواں چلانے والے گروپ کا کیا کردار ہے اور وہ ایسا کیا کر رہے ہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ نفرت کے خلاف لڑائی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔

دراصل ’فٹ پرنٹس‘ کے نام سے تعلیمی اسکولوں کی ایک چین ہے، جس کا ایک پلے اسکول گروگرام میں واقعہ ہے۔ اس اسکول سے آج کچھ تصاویر موصول ہوئیں جس میں ننھے منے بچے عید کے کپڑوں میں دعا مانگ رہے ہیں ۔ جب ایک بچے کی والدہ سے پوچھا گیا کہ اس اسکول میں کتنے بچے مسلم ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ایک بچی کے علاوہ باقی بچے مسلمان نہیں ہیں ۔ دراصل یہ سوال بنیادی طور پر ہی غلط ہے کہ بچوں کا مذہب پوچھا جائے مگر حال ہی میں بڑھ رہی مذہبی منافرت کی وجہ سے یہ سوا ل پوچھ لیا گیا کہ کہیں اس میں کوئی تجارتی اینگل تو نہیں ہے لیکن پتہ لگا کہ سبھی بچے مسلم نہیں ہیں اور گروگرام میں کوئی بڑی مسلم آبادی بھی نہیں ہے جس کو راغب کرنے کے لئے یہ کیا جائے ۔

فٹ پرنٹس کی ویب سائٹ پر جانے پر پتہ لگا کہ اس سے پہلے بھی گزشتہ عید کی کچھ تصاویر پڑی ہوئی ہیں اور اس گروپ کا کوئی بھی شئیر ہولڈر مسلمان نہیں ہے۔ فٹ پرنٹس نے عید سے پہلے اگر بچوں کو ہندوستان کے تمام مذہبی رنگوں سے واقف کرانے کے لئے اسکول میں عید جیسا ماحول بنایا تو اس عمل کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔

یہ وہ گرو گرام ہے جہاں کچھ دنوں پہلے جمعہ کی نماز کو لے کر ہنگامہ مچا ہوا تھا اور نفرت عروج پر تھی لیکن اسی گروگرام میں آج جو تصویر سامنے آئی ہے اس نے یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ نفرت کی زندگی لمبی نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ فٹ پرنٹس کی ذہنیت کے لوگوں کی اس ملک میں اکثریت ہے ، اسی وجہ سے اس ملک کو ان ذہنوں سے کوئی خطرہ نہیں ہے جو صرف نفرت کو جانتے ہیں اور نفرت ہی جیتے ہیں ۔

Published: 9 Aug 2019, 7:10 PM