وہ آخری سات منٹ جن میں بپن راوت سمیت 13 افراد کی جان چلی گئی

ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر کے پرواز بھرنے کے بعد اسے 12 بج کر 15 منٹ پر لینڈ کرنا تھا لیکن 7 منٹ قبل اس کا رابطہ منقطع ہو گیا، اس کے بعد جنرل بپن راوت، ان کی اہلیہ اور دیگر 11 جوانوں کی جان چلی گئی

جنرل بپن راوت کی فائل تصویر
جنرل بپن راوت کی فائل تصویر
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر کے پرواز بھرنے کے بعد اسے 12 بج کر 15 منٹ پر لینڈ کرنا تھا لیکن لینڈنگ سے 7 منٹ قبل ہی اس کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ اس کے بعد جنرل بپن راوت، ان کی اہلیہ اور دیگر 11 جوانوں کی جان چلی گئی۔ اب ہر کسی کے ذہن میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ آخر ان 7 منٹ میں کیا ہوا تھا؟

ہیلی کاپٹر کریش ہونے سے تقریباً 19 سیکنڈ پہلے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں ہیلی کاپٹر بادلوں میں داخل ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے اور پھر اچانک آگ کے گولے کی شکل میں نیچے گرتا ہوا نظر آیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا موسم کی خرابی سے ایسا ہوا!


اس سوال کے جواب میں ریٹائرڈ اسکواڈرن لیڈر دیپتی کالا نے کہا کہ دھند کی شدت اور مرئیت کی اطلاع پہلے ہی پائلٹ کو دے دی جاتی ہے اور اس کا معیار یہ ہے کہ اگر مرئیت کم ہے تو پرواز نہیں بھری جا سکتی، نیز اگر درمیان میں موسم خراب ہوتا ہے تو پائلٹ کو معلوم ہوتا ہے کہ کیا کرنا ہے۔ پائلٹ کا تو نزدیکی مقام پر لینڈنگ کرے گا یا موسم کے بہتر ہونے کا انتظار کرے گا۔ ہر ایک چیز کی معلومات پائلٹ کو دی جاتی ہے۔

تکنیکی وجوہات کی بنا پر حادثہ پیش آنے کے امکان پر ریٹائرڈ گروپ کیپٹن ابھیجیت رنجن نے بتایا کہ ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر کے انجن میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ کہیں سے بھی نکل کر آ سکتا ہے اور لینڈ کر سکتا ہے۔ یہ دو انجن والا ہیلی کاپٹر ہے اور دونوں انجن ایک ساتھ لگاتار کام کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ایمرجنسی کے وقت ایک آف ہوگا اور دوسرا آن ہوگا۔


انہوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر کے پرواز سے عین قبل اس کی جانچ کی جاتی ہے اور اگر کسی وجہ سے ایندھن میں کچھ ایسا عنصر آ گیا ہے کہ ایک انجن بند ہو گیا تو دوسرا بند نہیں ہو سکتا۔ ابھیجیت رنجن نے اپنے ایم آئی -17 وی 5 ہیلی کاپٹر اڑانے کے تجربہ کی روشنی میں انجن کی خرابی کی وجہ سے حادثہ ہونے کے امکان کو خارج کر دیا۔

ایسے میں لوگوں کے دل میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ آخر اس دن آخری سات منٹ میں کیا ہوا تھا؟ جس کی تحقیقات فضائیہ کی طرف سے ایئر مارشل مانویندر کی سربراہی والی ٹیم کر رہی ہے۔

ہیلی کاپٹر کریش سے جڑی تمام اطلاعات کے لئے اب تمام امیدیں کسی بھی طیارے یا ہیلی کاپٹر کے راز کو قید کرنے والے بلیک باکس سے وابستہ ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ 70 فیصد کریش کی معلومات بلیک باکس فراہم کر دیتا ہے۔ کنور ہیلی کاپٹر حادثہ سے جڑے کئی سوالوں کے جواب بلیک باکس کو ہی دینے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔