’پنجاب کی زبان بھی تو پڑوسی ملک سے میل کھاتی ہے‘، بنگالی مسلمانوں سے متعلق عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکز سے مانگا جواب

سپریم کورٹ نے کہا کہ پنجاب اور بنگال کی زبان و ثقافت پڑوسی ممالک سے میل کھاتی ہے، اس لیے اس الزام پر حکومت کا جواب آنا ضروری ہے کہ صرف بانگلہ بولنے کے سبب لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

ہندوستان بھر میں بانگلہ زبان بولنے والوں کو حراست میں لیے جانے اور انھیں بنگلہ دیش بھیجنے کے خلاف عرضی پر سپریم کورٹ میں آج سماعت ہوئی۔ اس تعلق سے عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت کو جواب داخل کرنے کے لیے کہا ہے اور آئندہ سماعت کے لیے 11 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ یہ عرضی مغربی بنگال مائیگرینٹ ورکرس ویلفیئر بورڈ نام کے ادارہ اور اس کے سربراہ سمیر الاسلام نے داخل کی ہے۔ سمیر الاسلام ترنمول کانگریس سے راجیہ سبھا رکن بھی ہیں۔

عرضی دہندہ کی طرف سے پیش وکیل پریشانت بھوشن نے کہا کہ بغیر مناسب طریقۂ کار اختیار کیے زبان کی بنیاد پر مسلم افراد کو حراست میں لیا جا رہا ہے اور ملک سے باہر کیا جا رہا ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے پیش سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے اس دلیل کی مخالفت کی۔ انھوں نے کہا کہ کچھ این جی او اور ریاستی حکومتیں غیر قانونی طور پر ہندوستان میں مقیم دراندازوں کی حمایت کرتی ہیں، ان کی بات نہیں سنی جانی چاہیے۔ سالیسٹر جنرل نے دلیل پیش کی کہ اگر کوئی شخص حکومت کی کارروائی سے متاثر ہے تو وہ سپریم کورٹ آ سکتا ہے۔ عرضی داخل کرنے والا ادارہ ایسے لوگوں کی عدالت پہنچنے میں مدد کرے۔ ادارہ خود عرضی داخل نہیں کر سکتا۔ تشار مہتا نے یہ بھی کہا کہ دراندازوں کا ایک پورا نیٹورک چل رہا ہے۔ ملک کو محفوظ بنانا اور شہریوں کے حقوق دراندازوں تک جانے سے روکنا حکومت کا فرض ہے۔ اس کے جواب میں پرشانت بھوشن نے کہا کہ حکومت بنگالی مسلمانوں کو ڈرانے کا کام کر رہی ہے۔


دونوں وکلا کے اس مباحثہ کا عدالت پر کوئی اثر نہیں پڑا اور بنچ نے کہا کہ حکومت عرضی کا جواب داخل کرے۔ اس معاملے کی سماعت جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وپُل ایم پنچولی کی بنچ نے کی۔ جسٹس سوریہ کانت نے لوگوں کو حراست میں لینے سے متعلق طریقۂ کار کی جانکاری طلب کی۔ جسٹس باغچی نے کہا کہ پنجاب اور بنگال کی زبان اور ثقافت پڑوسی ممالک سے میل کھاتی ہے، اس لیے اس الزام پر حکومت کا جواب آنا ضروری ہے کہ صرف بانگلہ بولنے کے سبب لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

عرضی پر سماعت کے دوران ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے کہا کہ ہزاروں لوگوں کو صرف شبہات کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا ہے۔ شہریت کی تصدیق ہوئے بغیر یا بنگلہ دیش حکومت سے بات کیے بغیر ان لوگوں کو جبراً بی ایس ایف سرحد کی دوسری طرف بھگا رہی ہے۔ سالیسٹر جنرل نے بھوشن کی اس دلیل کو جنتر منتر میں دی جانے والی تقریر جیسا قرار دیا۔ بہرحال، اس سے قبل 14 اگست کو سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور 9 ریاستوں کو اس معاملے میں نوٹس جاری کیا تھا، اور آج (جمعہ) عدالت نے گجرات کو بھی اس معاملے میں فریق بنا لیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔