کرتارپور گلیارا، پاکستان کے لئے بڑا سہارا!

پاکستان کی اقتصادی بدحالی جگ ظاہر ہے اور بحران کے اس دور میں اسے حال ہی میں آئی ایم ایف سے قرض لینے کےلئے سخت شرطوں کو ماننا پڑا تھا لیکن کرتارپور گلیارا اس کےلئے بہت ہی فائدے مند ثابت ہوسکتا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: پاکستان کی اقتصادی بدحالی جگ ظاہر ہے اور بحران کے اس دور میں اسے حال ہی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)سے قرض لینے کےلئے سخت شرطوں کو ماننا پڑا تھا لیکن کرتارپور گلیارا اس کےلئے بہت ہی فائدے مند ثابت ہوسکتا ہے۔

ہندوستان اور پاکستان نے جمعرات کو کرتارپور گلیارے سے متعلق معاہدے پر دستخط کئےہیں۔اس کے تحت سکھ عقیدت مند پاکستان کے پنجاب صوبے کے نارووال میں واقع دربار صاحب کے درشن کےلئے جاسکیں گے۔یہ مذہبی مقام بین الاقوامی سرحد سے صرف چار کلومیٹر دور ہے۔یہ گرودوارا سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو جی کی زندگی سے منسلک ہے۔گرونانک دیوجی نے یہاں اپنی زندگی کےآخری دن گزارے تھے۔ان کی 550 ویں یوم پیدائش کے موقع پر نونومبر کو کرتارپور گلیارے کا افتتاح کیاجائےگا اور ہندوستان کی جانب سے سکھ عقیدت مندوں کو 10 نومبر سے اس مذہبی مقام کے درشن کرنے کی اجازت ہوگی۔

یہ گلیارا ڈیرا بابا نانک صاحب اور گردوارا دربار صاحب کو جوڑے گا۔دونوں ملکوں کے درمیان ہوئے معاہدے کے تحت روزانہ پانچ ہزار عقیدت مندوں کو دربار صاحب جانے کی اجازت ہوگی۔پاکستان نے دربار صاحب آنے کےلئے 20ڈالر کی فیس رکھی ہے۔سکھوں کی اپنے گرودواروں کے تئیں عقیدت مند کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور ایسے میں امید ہے کہ روزانہ پانچ ہزار عقیدت مندوں کے یہاں آنے کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے۔

کرتارپور گلیارا سمجھوتے کے تحت عقیدت مندوں کو 20ہزار ڈالر کا سروس چارج دینا ہوگا۔اس طرح روزانہ پانچ ہزار عقیدت مندوں سے 20 ڈالر کی فیس وصولنے پر روزانہ یہ آمدنی تقریباً ایک لاکھ ڈالر کی ہوگی۔یہ رقم ایک سال میں تین کروڑ 65 لاکھ ڈالر کی ہوگی۔حال میں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی شرح مبادلہ 155.72روپے ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ روزانہ ایک کروڑ 55 لاکھ 72 ہزار روپے بطور سروس چاروصولے جائیں گے۔یہ گلیارا سال بھر کھلا رہے گا اور اگر ہر روز اتنی ہی کمائی ہوئی تو ایک سال میں یہ رقم تقریباً چھ ارب روپے تک پہنچ جائےگی۔

پاکستان میں واقع دربار صاحب جانے کےلئے عقیدت مندوں کوآن لائن رجسٹریشن کرانا ہوگا جو جمعرات سے شروع ہوگیا ہے۔جن عقیدت مندوں کو دربار صاحب جانے کےلئے اجازت دی جائےگی انہیں سفر کے دن سے تین چار دن پہلے ای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعہ سے ضروری اطلاع بھیج دی جائےگی۔دونوں ملکوں کے درمیان ہوئے معاہدے کے مطابق دربار صاحب کے درشن کرنے والے عقیدت مندوں کی فہرست سفر کی تاریخ سے 10 دن پہلے پاکستان کو مہیا کرادی جائے گی۔عقیدت مندوں کو درشن کر کے اسی دن واپس لوٹنا ہوگا۔

سکھ طبقے کے بانی گرونناک دیو جی نے دربار صاحب میں اپنی زندگی کے آخری 18سال گزارے تھے۔پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نو نومبر کو اس گلیارے کا افتتاح کریں گے۔

next