بدعنوانی معاملہ پر مودی کو خط لکھنے والےجج کو ملی سزا، ریٹائرمنٹ کی الوداعی تقریب منسوخ!

الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس رنگ ناتھ پانڈے کو بروز جمعرات باضابطہ طور پر الوداعیہ دینے سے انکار کر دیا گیا۔ انھوں نے کچھ دن پہلے ہی ججوں کی تقرری میں ہو رہی بدعنوانی کے تعلق سے پی ایم کو خط لکھا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری سے متعلق سوال اٹھانے والے اور پی ایم مودی کو خط لکھنے والے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس رنگ ناتھ پانڈے کی الوداعی تقریب منسوخ کر دی گئی ہے۔ ایسا تصور کیا جا رہا ہے کہ رنگ ناتھ پانڈے کے ذریعہ پی ایم مودی کو خط بھیج کر ججوں کی تقرری پر سوال اٹھائے جانے کے بعد پیدا تنازعہ کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

قابل غور ہے کہ ریٹائرمنٹ والے دن ہر جج کو الوداعیہ دیا جاتا ہے۔ روایتی طور پر ایسا ہوتا رہا ہے۔ رنگ ناتھ پانڈے کے ریٹائرمنٹ والے دن یعنی جمعرات کو یہ تقریب ہونے والی تھی، لیکن اسے منسوخ کر دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس رنگ ناتھ پانڈے نے پی ایم مودی کو خط لکھ کر ججوں کی تقرریوں پر سنگین سوال کھڑے کیے تھے۔ جسٹس رنگ ناتھ پانڈے نے لکھا تھا کہ ججوں کی تقرری میں کوئی متعین پیمانہ نہیں ہے اور تقرری کی اصل بنیاد نسل اور ذات ہوتی ہے۔

جسٹس رنگ ناتھ پانڈے نے پی ایم مودی کو بھیجے خط میں لکھا تھا کہ ’’ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کا انتخاب بند کمروں میں چائے کی دعوت پر کیا جاتا ہے جس کی اصل بنیاد ججوں کی پیروی اور ان کا پسندیدہ ہونا ہی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا تھا کہ ’’34 سال کی سروس میں انھیں کئی بار ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کو دیکھنے کا موقع ملا۔ کئی ججوں کو قانون کے بارے میں قابل قدر جانکاری نہیں ہے۔ کئی ججوں کو تو قانون کی چھوٹی باتوں کے بارے میں بھی نہیں پتہ۔‘‘

وکیلوں کے تعلق سے جسٹس رنگ ناتھ نے خط میں لکھا تھا کہ ’’کئی وکیلوں کے پاس قانونی عمل کی پوری جانکاری نہیں۔‘‘ خط میں ججوں کے تعلق سے واضح لفظوں میں لکھا گیا تھا کہ ’’کالجیم کے اراکین کے پسندیدہ ہونے کی بنیاد پر جج مقرر کر دئیے جاتے ہیں۔ یہ صورت حال بے حد افسوسناک ہے۔‘‘