حکومت ایم ایس پی پر یا تو قانون بنائے یا اس دھوکہ کو ختم کرے: یوگیندر یادو

لیڈر یوگیندر یادو نے فصلوں کے کم از کم سپورٹ پرائس یعنی ایم ایس پی کے موجودہ نظام کو دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یا تو حکومت اس کو قانون کے دائرے میں لائے یا اسے ختم کر دے۔

یوگیندر یادو / یو این آئی
یوگیندر یادو / یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: تین نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے متحدہ کسان مورچہ کے اہم رکن اور سوراج انڈیا کے لیڈر یوگیندر یادو نے فصلوں کے کم از کم سپورٹ پرائس یعنی ایم ایس پی کے موجودہ نظام کو دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یا تو حکومت اس کو قانون کے دائرے میں لائے یا اسے ختم کر دے۔

یوگیندر یادو نے سنیچر کے روز یو این آئی سے کہا کہ ایم ایس پی کے نام پر اس ملک میں گزشتہ 50 برسوں سے دھوکہ ہو رہا ہے اور ایسے ہی چلتا رہا تو آگے بھی کسانوں کے ساتھ دھوکہ کیا جاتا رہے گا۔ حکومت کو اس ایم ایس پی کے سسٹم کو یا تو قانونی شکل دینی چاہئے یا اسے ختم کر دینا چاہئے۔


یوگیندر یادو نے کہا کہ ایم ایس پی کا تعین کرنے والا کمیشن فار ایگریکلچر کاسٹ اینڈ پرائزز سرکاری ادارہ تو ہے لیکن اسے آئینی حیثیت حاصل نہیں ہے، اس لئے اس کی سفارشات حکومت پر لازمی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایم ایس پی کا التزام صرف کاغذات تک ہی محدود ہے اور زمینی سطح پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔

منڈیوں میں کسانوں کی حالت زار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب کسان فصل منڈی میں لے کر جاتا ہے تو اسے کسی نہ کسی بہانے ایم ایس پی برابر قیمت ادا نہیں کی جاتی اور اس کی فصل کی بولی ایم ایس پی کے نیچے ہی لگائی جاتی ہے ۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔