زرعی قوانین کی واپسی: بہت دیر کر دی مہرباں آتے آتے!...سید خرم رضا

حکومت نے تین زرعی قوانین واپس لے لئے ہیں اور ایسا کر کے اس نے کوشش کی ہے کہ ناراض کسانوں کو اپنے حق میں کیا جائے

زرعی قوانین کی واپسی: بہت دیر کر دی مہرباں آتے آتے!
زرعی قوانین کی واپسی: بہت دیر کر دی مہرباں آتے آتے!
user

سید خرم رضا

آخر کار مرکزی حکومت کسانوں کے احتجاج کے آگے جھک گئی اور وزیر اعظم نے معافی مانگتے ہوئے تین زرعی قوانین واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کے ذریعہ لائے گئے قوانین کسانوں کے لئے فائدہ مند تھے لیکن حکومت اس کو سمجھانے میں کہیں نہ کہیں کامیاب نہیں ہوئی۔

واضح رہے ایک سال سے زیادہ مدت سے کسان ان قوانین کو واپس لینے کے لئے احتجاج کر رہے تھے اور اس کو لے کر حکومت کی کسانوں سے کئی دور کی بات چیت بھی ہوئی لیکن ہر دور کی بات چیت بے نتیجہ ہی رہی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ قوانین کسانوں کے مفاد میں ہیں جبکہ کسانوں کی رائے اس کے خلاف تھی اور وہ حکومت سے چاہتے تھے کہ ان قوانین کو واپس لے لیا جائے۔


کسانوں نے ان قوانین کے خلاف جب سے مظاہرہ شروع کیا تھا تب سے حکومت اور کسان آمنے سامنے تھے اور جب کسانوں کو دہلی میں احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تو کسان تنظیموں نے دہلی کی سرحدوں پر احتجاج شروع کر دیا۔ اس میں کئی طرح مشکلیں اور دقتیں پیش آئیں لیکن کسانوں نے اپنا احتجاج واپس نہیں لیا اور احتجاج کے دوران کئی کسانوں کی قیمتی جانیں بھی گئیں۔ان مظاہروں کو ایک سال سے زیادہ وقت ہو گیا تھا۔

حکومت کے اس فیصلہ کے پیچھے آنے والے اسمبلی انتخابات نظر آ رہے ہیں۔ اتر پردیش اور پنجاب میں چند ماہ بعد انتخابات ہونے والے ہیں اور عوام میں حکمراں بی جے پی کی جماعت کی مقبولیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری جانب پنجاب میں امریندر سنگھ کے پارٹی چھوڑنے کو بعد یہ قیاس لگایا جا رہا تھا کہ جلد ہی ان قوانین کو واپس لیا جا سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔