پھینکو مگر سنبھال کے!... اعظم شہاب

ورلڈ اکنامک فورم میں پردھان سیوک کے دعووں کی قلعی ’آکسفیم انٹرنیشنل‘ کی رپورٹ سے کھل گئی جس کے مطابق ملک میں 84 فیصد کنبوں کی آمدنی میں گراوٹ آئی ہے اور ارب پتیوں کی تعداد 102 سے بڑھ کر 142 ہو گئی

پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
user

اعظم شہاب

ایک زمانہ میں راہل گاندھی کے ہاتھ میں تقریر کرتے وقت کاغذ کا پرزہ ہوا کرتا تھا اس لئے بی جے پی والے انہیں پپو کہہ کران کا تمسخراڑایا کرتے تھے۔ اس کے جواب میں مودی جی کوپھینکو کے خطاب سے نوازہ گیا کیونکہ وہ بے سر پیر کی ہانکا کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ راہل گاندھی کے ہاتھوں سے کاکاغذکا پرزہ غائب ہوگیا اور اب مودی جی کی تقاریر کا راز بھی ڈاوس میں فاش ہوگیا۔ وزیر اعظم نے ورلڈ اکنامک فورم کی چوٹی کانفرنس میں اتنا طول طویل پھینکا کہ ٹیلی پرامپٹرنے بھی ہتھیار ڈال دیئے۔ بس پھر کیا تھا؟ مودی جی کی بولتی بند ہوگئی اور راہل گاندھی کو اپنا حساب چکانے کا موقع مل گیا۔ انہوں نے اپنے طنزیہ ٹویٹ میں لکھا کہ ’ٹیلی پرامپٹر بھی جھوٹ برداشت نہیں کر سکا‘۔جو اسی طرح وائرل ہوگیا جس طرح مودی جی کی ٹیلی پرامپٹرکے بند ہونے پر بغلیں جھانکنے کی ویڈیو وائرل ہورہی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں یہ بتایا کہ کورونا کے زمانے میں ہندوستان نے دنیا کو کیا کیا دیا۔ مثلاً ہندوستان نے بحران کے وقت دنیا کو جمہوریت کے تئیں غیر متزلزل یقین، نئی ٹیکنالوجی اور ہنر کی شکل میں ’امید کا تحفہ‘ دیا ہے۔ اس گلدستے میں ہم ہندوستانیوں کا جمہوریت پر غیر متزلزل یقین ہے۔ اکیسویں صدی کو بااختیار بنانے والی ٹیکنالوجی، اس گلدستے میں ہے، ہم ہندوستانیوں کی سوچ، ہم ہندوستانیوں کا ہنر‘وغیرہ وغیرہ۔ لیکن جیسے ہی وہ ہنر یعنی ’ٹیلنٹ‘ پرپہونچے ٹیلی پرامپٹرلرز اٹھا اورکچھ اس طرح لرزا کہ آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔ہمارے پردھان سیوک جی چونکہ اس غیرمتوقع صورت حال کے لئے بالکل تیار نہیں تھے اور انہوں نے ٹیلی پرامپٹر کو بھی اپنا کوئی بھکت سمجھ لیا تھا، اس لئے بوکھلاہٹ میں اِدھر اُدھر دیکھنے لگے۔ پھر بھی ٹیلی پرامپٹر نے حکم ماننے سے انکار کردیا تو پھر گلاصاف کرنے لگے۔ پھر بھی بات نہیں بنی تو دوسری جانب آواز پہونچ رہی ہے کہ نہیں اس کی تصدیق کرنے لگے۔وہ تو اچھا ہوا پروگرام کے اینکر نے صورت حال کی نزاکت کو بھانپ کرکے بات سنبھال لی ورنہ بعید نہیں پردھان سیوک جی کو اپنی تقریر ادھوری ہی چھوڑنی پڑتی۔


عالم انسانیت پر کورونا کے دور میں ہندوستان کے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے پردھان سیوک نے بتایا ہم نے’ایک زمین، ایک صحت‘ کے فلسفے پر چلتے ہوئے کئی ممالک کو ضروری ادویات، ویکسین دے کر کروڑوں جانیں بچا ئی ہیں۔ آج ہندوستان دنیا میں دوائیوں کا تیسرا سب سے بڑا پیدا کرنے والا ملک ہے، اسے دنیا کی فارمیسی کہا جاتا ہے۔ آج ہندوستان دنیا میں ریکارڈ سافٹ ویئر انجینئر بھیج رہا ہے۔ ہندوستان میں 50 لاکھ سے زیادہ سافٹ ویئر ڈویلپر کام کر رہے ہیں۔ پچھلے 6 مہینوں میں 10 ہزار سے زیادہ اسٹارٹ اپ رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ آج ہندوستان کے پاس دنیا کا سب سے بڑا، محفوظ اور کامیاب ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔ صرف پچھلے مہینے تک، ہندوستان نے یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس (یو پی آئی) کے ذریعے 4.4 ارب لین دین کا مشاہدہ کیا ہے۔ آج ہندوستان حکومتی مداخلت کو کم کرتے ہوئے کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دے رہا ہے۔

وزیر اعظم کے بیان کردہ ہوائی کامیابیوں کی ہوا نکالنے کے لیے اسی دن عالمی ادارے آکسفیم انٹرنیشنل کی طرف سے ’ان ایکوالیٹی کلس‘ نامی رپورٹ جاری کردی۔ اس کے مطابق بھارت میں گزشتہ ایک برس کے دوران 84 فیصد کنبوں کی آمدنی میں گراوٹ آئی۔ دوسری طرف ارب پتی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا اور یہ تعداد 102سے بڑھ کر 142ہوگئی۔ ان کی دولت 720 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ پہنچ گئی ہے، جو کہ 130/کروڑ کی آبادی والے بھارت کی 40 فیصد غریب آبادی کی مجموعی دولت سے بھی زیادہ ہے۔آکسفیم کے مطابق کورونا کے زمانے میں ہندوستان کے اندر امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج میں کافی اضافہ ہوگیا ہے۔ ملک کے صحت کا نظام بری طرح چرمرا گیا یہاں تک کہ قبرستانوں اور شمشان گھاٹوں میں لاشوں کی آخری رسومات کے لیے جگہ کم پڑ گئی۔ یہ تصویر کا دوسرا رخ ہے جسے پردھان سیوک نے چھپانے کی کوشش کی اور اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ٹیلی پرامپٹر نے کام کرنے سے انکار کر دیا۔


دنیا پھر پر احسان جتانے کے بجائے وزیر اعظم کو ان رائے دہندگان کا خیال کرنا چاہیے جنھوں نے ان کو وزیر اعظم بنایا ہے۔لیکن ان کی ہم دو اور ہمارے دو کی سرکار میں دولت مند افراد کے مال و زر میں دو گنا سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔اس کے ساتھ غربت میں اضافے کی وجہ سے بھارت سب سے بے سہارا افریقہ کی صف میں آگیا۔ ہندوستان کے اندر سن 2020 میں غریبوں کی تعداد دو گنا ہوکر 13کروڑ 40 لاکھ ہوگئی۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ مودی جی دنیا بھر کو ویکسین بانٹ رہے تھے، ملک کے ہیلتھ بجٹ میں کمی کر دی گئی تھی۔ سن 2020-21 کے دوران صحت کے بجٹ میں مجموعی طورپر 10فیصد کی شرمناک گراوٹ درج کی گئی۔ اس کا مطلب عوام کی جان سے کھلواڑ کرکے سینٹرل وسٹا جیسے پروجکٹ کو سینچا گیا۔

لیکن ہمارے پردھان سیوک جی کی مصیبت یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جو کہیں گے،دنیا اسے بے چوں چراں تسلیم کرلے گی۔ وہ جو بھی دعویٰ کریں گے اسے حقیقت کی کسوٹی پر نہیں پرکھا جائے گا بلکہ اسے من وعن مان لیا جائے گا۔ شترمرغ کی مثال سے تو سبھی واقف ہونگے کہ خطرے کے وقت وہ اپنا زمین میں اپنا سردھنسالیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ کوئی اسے دیکھ نہیں رہا ہے۔ بالکل اسی طرح پردھان سیوک جی دنیا کی جانب سے اپنی آنکھیں بندکرکے صرف اپنے خول میں مست ہیں جبکہ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہندوستان کی ہرحرکت اور ہرعمل پر دنیا بہت باریک نظر رکھتی ہے۔ مگر اس کا کیا جائے جب آدمی خود اپنی آنکھیں موندلے تواسے سامنے موجود دیوار تک نظر نہیں آتی ہے۔ ٹیلی پرامپٹر پر پہلے سے تحریرشدہ تقریر کو من وعن پڑھ دینے سے یہ سمجھنا کہ ہم نے ملک کی بہتر نمائندگی کردی، یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کورونا کے دورمیں آکسیجن وادویات کی کمی کے سبب ہونے والی اموات سے یہ کہہ کر انکار کردیا جائے کہ حکومت کے پاس اس ضمن میں کوئی ڈاٹاموجود نہیں ہے۔ مگر دنیا کے پاس ہمارے ہردعوے کا ڈاٹا موجود ہے اور اسی ڈاٹا کی وجہ سے ہم نہ صرف پوری دنیا میں تنہا ہورہے ہیں یہاں تک پڑوسی ممالک نے بھی ہم پر اعتبار کرنا چھوڑدیا ہے۔اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو آج ٹیلی پرامپٹر بہت زیادہ پھینکنا برداشت نہیں کرسکا، کل کو وہ بھی برداشت کرنا چھوڑ دیں گے جن کے لئے اس قدر طول طویل پھینکا جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔