مودی حکومت کی دوسری مدت کا پہلا سال تنازعات سے بھرا رہا: مایاوتی

بی ایس پی لیڈر مایاوتی نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر آج کئی دعوے کیے گئے ہیں لیکن وہ زمینی حقیقت اور عوام کی سوچ سمجھ سے دور نہ ہوں تو بہتر ہے۔

بی ایس پی سپریمو مایاوتی
بی ایس پی سپریمو مایاوتی
user

یو این آئی

نئی دہلی: بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی نے نریندر مودی حکومت کی دوسری مدت کے ایک سال مکمل ہونے پر ہفتہ کو کہا کہ مرکزی حکومت کو اپنے طریق کار اور پالیسیوں پر انتہائی غوروفکر کرتے ہوئے کام کاج کا جائزہ لینا چاہیے۔ مایاوتی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ مرکزی حکومت کا پہلا سال تنازعات سے بھرا رہا ہے۔ حکومت کو مفاد عامہ اور ملک کے مفاد میں اس پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا ’’ایسے میں مرکزی حکومت کو اپنی پالیسیوں اور طریق کار کے بارے میں کھلے دل سے ضرور جائزہ لینا چاہیے اور جہاں پر ان کی كمياں رہی ہیں، ان پر پردہ ڈالنے کی بجائے، انہیں دور کرنا چاہیے۔ بی ایس پی کا ان کو ملک اور عوامی مفاد میں یہی مشورہ ہے‘‘۔

بی ایس پی لیڈر نے کہا کہ مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر آج کئی دعوے کیے گئے ہیں لیکن وہ زمینی حقیقت اور عوام کی سوچ سمجھ سے دور نہ ہوں تو بہتر ہے۔ ویسے ان کی یہ مدت زیادہ تر معاملات میں کافی تنازعات سے گھری رہی ہے جن پر ان کو ملک اور مفاد عامہ میں ضرور سنجیدگی سے انتہائی غوروفکر کی ضرورت ہے۔

مایاوتی نے کہا کہ ’’ملک کی تقریبا 130 کروڑ آبادی میں سے زیادہ تر غریبوں، بے روزگاروں، کسانوں، مہاجر مزدوروں اور عورتوں وغیرہ کی زندگی تو یہاں پہلے سے بھی زیادہ انتہائی تکلیف دہ ہی بنی ہوئی ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے اور جسے فورا ہی فراموش نہیں جا سکتا ہے‘‘۔

next