اکیلی ماں کے بچے پر مسلط نہیں کی جاسکتی والد کی شناخت، طالبہ کی درخواست پرعدالت نے سنایا اہم فیصلہ
بامبے ہائی کورٹ نے پدرانہ سوچ پر بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مفروضہ کہ شناخت باپ سے آئے گی، کوئی ’’انتظامی اصول‘‘ نہیں بلکہ سماج کی متعصبانہ ذہنیت ہے جسے اب بدلنا چاہئے۔

بامبے ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ اگر کسی بچے کی پرورش تنہا اس کی ماں نے کی ہے تو اسے زبردستی باپ کا نام، سرنیم یا ذات کے لیے مجبورنہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے کہا کہ پرانے طریقے یا روایات کی بنیاد پرکسی بچے پرشناخت مسلط کرنا آئین کی روح کے خلاف ہے۔ بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ کی جسٹس ویبھا کنکن واڑی اور ہیتن وینیگاونکر نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’سنگل مدر‘ (اکیلی ماں) کو’’مکمل سرپرست‘‘ ماننا کسی طرح کی ہمدردی نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔
بدھ کو جاری کی گئی فیصلے کی کاپی میں عدالت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ پدرانہ دباؤ سے آئینی انتخاب کی طرف بڑھنے کا اشارہ ہے۔ وراثت کو تقدیر ماننے کی سوچ ختم ہوکر اب وقار اختیار مانا جارہا ہے۔ عدالت کے ججوں نے یہ بھی کہا کہ ترقی پذیرمعاشرے میں یہ تصورنہیں کیا جا سکتا کہ بچے کی شناخت اس کے والد سے منسلک ہے جو اس کی زندگی میں موجود ہی نہیں ہے، جب کہ بچے کی پرورش کا پورا بوجھ ماں اٹھاتی ہے۔
یہ حکم 12 سال کی ایک بچی کی جانب سے دائردرخواست پرآیا جس میں اس نے اسکول کے ریکارڈ میں اپنا نام اور ذات تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ طالبہ چاہتی تھی کہ اس کے اسکول ریکارڈ میں درج ’’مراٹھا‘‘ ذات کوتبدیل کرکے’’ شیڈیول کاسٹ مہار‘‘ کردیا جائے۔ درخواست کے مطابق طالبہ کی ماں ’سنگل مدر‘ ہے اور وہی اس کی فطری سرپرست ہے۔ والدہ نے والد پر جنسی زیادتی کا الزام لگایا تھا تاہم بعد میں فریقین میں صلح ہو گئی۔ تصفیہ میں یہ طے ہوا کہ بچی کی مستقل تحویل ماں کے پاس رہے گی۔ اسکول نے گزشتہ سال طالبہ کا نام اور ذات تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد یہ معاملہ ہائی کورٹ پہنچا۔
عدالت نے کہا کہ جب مہاراشٹر حکومت کی پالیسی شناختی دستاویزات پر ماں کا نام بنیادی نام رکھنے کی اجازت دیتی ہے تو کسی بھی سرکاری ملازم یا ماتحت ادارے کو اس درخواست کو مسترد کرنے کا حق نہیں ہے۔ ہائی کورٹ نے کہاکہ آئین عزت کے ساتھ جینے کے حق کی ضمانت دیتا ہے، اس میں وہ شناخت بھی شامل ہے جو کسی غیر موجود والد سے زبردستی منسلک نہ کی گئی ہو، خاص طور پر جب اس کا کوئی فلاحی مقصد نہیں ہے اور اس سے سماجی نقصان بڑھ سکتا ہے۔
عدالت نے اسکول ریکارڈ کو صرف کاغذی دستاویزات نہیں بلکہ عوامی ریکارڈ قرار دیا جو ایک بچے کے ساتھ برسوں تک رہتا ہے اور مختلف اداروں میں اس کی شناخت کا تعین کرتا ہے۔ عدالت نے پدرانہ سوچ پر بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مفروضہ کہ شناخت باپ سے آئے گی،کوئی ’’انتظامی اصول‘‘ نہیں بلکہ سماج کی متعصبانہ ذہنیت ہے جسے اب بدلنا چاہئے۔ عدالت نے حکم دیا کہ بچی کانام اور ذات دونوں اس کی درخواست کے مطابق اسکول کے ریکارڈ میں تبدیل کیا جائے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔