کسانوں کی تحریک جاری رہے گی، متحدہ محاذ کا اگلا اجلاس 27 نومبر کو

راجیوال نے کہا کہ جب تک پارلیمنٹ میں ان قوانین کو باضابطہ طور پر منسوخ نہیں کیا جاتا اور ایم ایس پی کی قانونی ضمانت، بجلی ترمیمی بل کو واپس لینے سمیت دیگر مطالبات تسلیم نہ ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: متحدہ کسان مورچہ کی میٹنگ میں ایجی ٹیشن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور 27 نومبر کو ہونے والی میٹنگ میں اگلی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ بھارتیہ کسان یونین (راجے وال) کے صدر بلویر سنگھ راجیوال نے سنگھو بارڈر پر میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ تین زرعی قوانین کی منسوخی کے اعلان پر بات چیت کے بعد کچھ فیصلے لیے گئے، جس میں 27 نومبر کومورچہ کی اگلی میٹنگ میں تحریک کے آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی پہلے سے طے شدہ پروگرام جاری رہیں گے، جس میں 22 نومبر کو لکھنؤ میں کسان مہاپنچایت اور 29 نومبر کو کسانوں کا پارلیمنٹ مارچ شامل ہے۔

راجیوال نے کہا کہ جب تک پارلیمنٹ میں ان قوانین کو باضابطہ طور پر منسوخ نہیں کیا جاتا اور ایم ایس پی کی قانونی ضمانت اور بجلی ترمیمی بل کو واپس لینے سمیت دیگر مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج جاری رہے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے اعلان کے باوجود، کسان لیڈرون کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت کم از کم امدادی قیمت گارنٹی دینے والا قانون نہیں بناتی اور لکھیم پور کھیری تشدد کیس میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے کمار مشرا ’ٹینی‘ کو برطرف نہیں کیا جاتا، تب تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔


ایس کے ایم کے اجلاس میں ایک سال کی بے مثال جدوجہد کے بعد ہندوستان کے تمام کسانوں اور محنت کشوں کو ان کی تاریخی فتح پر دلی مبارکباد پیش کی گئی۔ میٹنگ میں ہندوستان وزیر اعظم کو ایک کھلا خط بھیجنے کا فیصلہ کیا، جس میں ایک فائدے مند ایم ایس پی کی ضمانت کے لیے مرکزی قانون سمیت کسان تحریک کی زیر التواء مطالبات کو اٹھایا گیا ہے۔ ایس کے ایم نے منصوبہ کے مطابق اعلان پروگراموں کو جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا۔ اگلی میٹنگ 27 نومبر 2021 کو ہوگی جس میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

ایس کے ایم نے تمام شہریوں پر زور دیا کہ وہ کل 22 نومبر کو لکھنؤ کسان مہاپنچایت، 24 نومبر کو سر چھوٹو رام کے یوم پیدائش پر کسان مزدور سنگھرش دیوس، 26 نومبر کو ’دہلی بارڈر مورچہ پہ چلو‘ جیسے پروگراموں میں حصہ لیں اور دہلی سے دور ریاستوں میں تمام ریاستی سطح کے کسان مزدوروں کے احتجاج اور 29 نومبر کو پارلیمنٹ چلو وغیرہ پروگراموں میں حصہ لیں گے۔


انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک سال سے پرامن پختہ عزم کے ساتھ احتجاج کرنے والے کسانوں نے عقیدے کے ساتھ تپسیا کی ہے۔ ان داتوں نے اپنی تپسیا سے تاریخی تحریک کو اس کی پہلی تاریخی فتح کے عروج پر پہنچا دیا ہے اور اسے مسلسل ایک مکمل فتح کی طرف لے جا رہے ہیں جو واقعی جمہوریت کی فتح ہوگی۔ یہ جیت کسی کے غرور یا انا کی نہیں ہے، بلکہ لاکھوں نظرانداز اور پسماندہ ہندوستانیوں کی زندگی اور ذریعہ معاش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کسان تحریک کے تقریباً 700 بہادر کسانوں کی جانب سے دی گئی بہادرانہ قربانیوں کو قبول نہیں کر رہی ہے، وہیں تلنگانہ حکومت اب شہیدوں کے خاندانوں کو امداد فراہم کرنے کے لیے آگے بڑھی ہے۔ ہر شہید کے خاندان کو تین لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کرتے ہوئے، تلنگانہ کے وزیراعلی کے چندر شیکھر راؤ نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت ہر کسان خاندان کو 25 لاکھ روپے کا معاوضہ دے اور تمام مقدمات کو غیر مشروط طور پر واپس لے۔


بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیت نے ٹوئٹ کیا کہ حکومت کی طرف سے زرعی اصلاحات کی جو باتیں کی جا رہی ہیں وہ فرضی اور مصنوعی ہیں۔ ان اصلاحات سے کسانوں کی حالت زار ختم ہونے والی نہیں ہے۔ سب سے بڑی اصلاحات زراعت اور کسانوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت کی قانون سازی ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔