کورونا وائرس کی وَبا کا دورانیہ طویل ہو سکتا ہے: ڈبلیو ایچ او کا ایک اور انتبا

ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وَبا کا دورانیہ ’طویل‘ ہوسکتا ہے، یہ نیا انتباہ چین سے پھیلنے والے اس مہلک وائرس کے بارے میں دنیا کو پہلی مرتبہ خبردار کرنے کے چھے ماہ بعد جاری کیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

جنیوا: عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس کی وَبا کا دورانیہ ’طویل‘ ہوسکتا ہے۔عالمی ادارے نے یہ نیا انتباہ چین سے پھیلنے والے اس مہلک وائرس کے بارے میں دنیا کو پہلی مرتبہ خبردار کرنے کے چھے ماہ بعد جاری کیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی ہنگامی کمیٹی کا جنیوا میں جمعہ کو اجلاس ہوا تھا اور اس میں کووِڈ-19 کے دورانیے کے ممکنہ طور پر طول پکڑنے اور اس تدارک کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا تھا۔

چین کے شہر ووہان میں گذشتہ سال دسمبر میں اس نئے وائرس کے پھیلنے کے بعد سے اب تک دنیا بھر میں 680014 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ہلاکتوں کی یہ تعداد دنیا کی حکومتوں کے فراہم کردہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ہے۔

اس ڈیٹا کی بنیاد پر فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے جمع کردہ اعداد وشمار کے مطابق ہفتے کے روز تک دنیا کے 196 ممالک اور علاقوں میں کرونا وائرس کے 17638510 کیسوں کا اندراج کیا گیا ہے۔ان میں سے 10156500 کیسوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ صحت یاب ہوچکے ہیں۔

تاہم حکومتوں کے فراہم کردہ اعدادوشمار اور کرونا وائرس کے حقیقی کیسوں کی تعداد میں کچھ فرق ہوسکتا ہے کیونکہ بہت سے ممالک میں کووِڈ-19 کی علامات کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں یا پھر زیادہ سنگین کیسوں ہی کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔

تازہ اطلاعات کے مطابق امریکا میں گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ان کی تعداد 1442 ہے۔ اس کے بعد برازیل میں 1212 اور بھارت میں ایک دن میں 764 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

کرونا وائرس کی وَبا سے اب تک امریکا ہی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور وہاں 4562170 کیسوں کی تشخیص ہوچکی ہے،ان میں 153314 مریض ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کم سے کم 1438160 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔

    next